ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Maen Kahin Aur Ja Nahin Sakta | میں کہیں اور جا نہیں سکتا
Nazmen - نظمیں

تم نے کوئی خط نہیں لکھا

 تو تم ناراض ہو مجھ سے
خطا تو ایک تھی لیکن سزا اتنی کہ پورا سال
    یعنی تین سو پینسٹھ دنوں سےتم نے کوئی خط نہیں لکھا
تمہیں معلوم ہے میں تین سو پینسٹھ دنوں میں
کن عذابوں میں رہا ہوں
تمہیں معلوم ہی کیا زعم جب بھی ٹوٹتا ہے تو
محبت بے یقینی کی سڑک پر چلنے لگتی ہے
بہت سے واہمے دیمک کی صورت آدمی کو چاٹ لیتے ہیں
تو دل بھی ٹوٹ جاتا ہے
تمہیں معلوم ہو شاید
درونِ جسم جب کچھ ٹوٹتا ہے تو
کوئی آواز بھی پیدا نہیں ہوتی
ذرا سی دیر کو بس نبض رکتی ہے اندھیرا پھیل جاتا ہے
تشدّد سے بھرے تنہائی کے لمحے
قیامت بن کے ایسے ٹوٹتے ہیں
جس طرح پتھر برستے ہیں
تمہیں معلوم ہی کیا انتظارِ خط میں
آنکھیں سرد گلیوں میں ٹھٹھرکر مرنے لگتی ہیں
مری پیشانی پر ریکھائوں کی صورت صدائیں رقص کرتی ہیں
دِشائیں طنز کرتی ہیں
سنو!اب میں صدائیں دیتے دیتے تھک گیا ہوں
اگر تم خط نہیں لکھ سکتے تو پھر خود پلٹ آئو
تمہیں میں اور گائوں کی ضعیف العمر گلیا ں یاد کرتی ہیں