ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Haal | حال
Nazmen - نظمیں

تقویم

اے خدا
آج جب میں تہجد کی خاطر اُٹھا تو مِرے پائوں میں
اک پرانی کہانی کے گم گشتہ اوراق آکر گِرے
وہ کہانی جو میں نے کبھی
تیرے اِدراک سے پہلے لکھی تھی
اور نامکمل رہی
ایک تاریخ تھی
جو زمانوں کے صفحوں سے گم ہو چکی
ایک تحریر تھی جس کو نیلے سمندر مٹا بھی چکے
کتنی صدیوں بھری بوڑھی آنکھوں میں
یرقان کے رنگ چھا بھی چکے
بوجھ اُٹھائے ہوئے ضعف مارے بدن
اِس غلامی سے اب تنگ آبھی چکے
پھر مری انگلیوں میں وہ سگرٹ سجا
جو ترے واسطے میں کہیں رکھ کے محوِ تلاوت ہوا
اے خدا ! اے بڑے کوزہ گر ۔۔۔دیکھ اِدھر
یہ جو سگرٹ ہے یہ اک بغاوت ہی ہے
اور بغاوت بھی تجھ سے محبت ہی ہے
اے بڑے کوزہ گر! دیکھ اِدھر
شاید اب تیرے گارے میں کوئی کمی۔۔۔پر نہیں
شاید اب تیری مٹی میں کم ہے نمی ۔۔۔پر نہیں
اے بڑے کوزہ گر!
ہم نے اپنے بدن پھر تِرے چاک پر دھر دیے
ہم کو پھر سے بنا
جو کمی تونے چھوڑی تھی اے کوزہ گر
اب اُسے پورا کر