ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Maen Kahin Aur Ja Nahin Sakta | میں کہیں اور جا نہیں سکتا
Nazmen - نظمیں

سورج مکھی

بقا کا مسئلہ ہے
ہمیں ہر روز اک بے رحم سورج کی طرف جھکتے ہی رہنا ہے
یہ کیسا مسئلہ ہے جس کا واحد حل خمیدہ سر ہی رہنا ہے
بقا شاید خودی کی موت میں ہے
اگر یہ سچ ہے تو پھر اس بقا سے موت بہتر ہے
سمجھ میں بھی نہیں آتا
ہمارا دھوپ سے یہ کیسا رشتہ ہے
نہ جانے کیوںہمارا جسم جب ہر روز سورج ڈوبتے ہی جھکنے لگتا ہے
تو لگتا ہےجبینوں پر کسی سجدے کا اب بھی فرض باقی ہے
یہ کیسا قرض باقی ہے
ہماری زندگی کیا ہے
ہماری زندگی کی دوڑ تو بس صبح سے لیکر
اچانک دوپہر کو ختم ہو جاتی ہے اس کے بعد
جھُک جانے کے لمحے آنے لگتے ہیں
ہمیں معلوم ہی کیا زرد سورج کیسا ہوتا ہے
ہمیں سورج کی جانب آنکھ اُٹھا کر دیکھنے کا حوصلہ کب ہے
عجب بے اختیاری ہے
یہ کیسا خوف طاری ہے
ہمیں صدمات سہنا ہیں ہمیں خاموش رہنا ہے
کڑکتی دھوپ کے ہر ظلم کو تسلیم کرنا ہے
ہمیں کوئی بتائے تو ہمارے چہروں کی
اِس زرد رنگت کا سبب کیا ہے
کوئی چڑیا ہماری زرد رنگت کیوں نہیں چگتی؟