ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Dar Haqeeqat | در حقیقت
Nazmen - نظمیں

شاعر

آخری جملہ بول دیا جائے تو بات مکمل ہو جاتی ہے
آنکھیں اشکوں سے بھر جاتی ہیں
اور سارے منظر دھندلے ہو جاتے ہیں
آخری رمز اگر کھل جائےتو
اظہار کہیں تالو سے چپکا رہتا ہے
اور ہونٹوں تک آتا ہی نہیں ہے
آخری اینٹ لگا دی جائے
تو راج مستری اپنی اجرت لے کر رخصت ہو جاتا ہے
اور رنگوں والے آ جاتے ہیں
رنگوں والے ۔۔۔
اندھا جس نے دنیا کو دیکھا ہی نہیں ہے
کیسے دنیا فرض کرے گا
اور کیسی دنیا فرض کرے گا
گونگا گڑ تو کھا سکتا ہے
لیکن کیسے بولے گا گڑ میٹھا ہے
ہم بس ایسے شاعر ہیں
سنی سنائی پڑھی پڑھائی باتیں کرتے رہتے ہیں
اور خود کو بدھا ، باھو اور بلھے کا
ہم عصر بتاتے رہتے ہیں
کتنے سچے اور پکے جھوٹے ہیں
آخری باتیں کر بھی لیں تو بولتے رہتے ہیں
آخری رمزیں کھول کے بھی کچھ کھولتے رہتے ہیں
آخری اینٹ لگا کر بھی دیواریں توڑتے رہتے ہیں
قافیہ تو بس نام رکھا ہے، آوازیں جوڑتے رہتے ہیں
ہم بس ایسے ہی شاعر ہیں