ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Maen Kahin Aur Ja Nahin Sakta | میں کہیں اور جا نہیں سکتا
Nazmen - نظمیں

سر سے پائوں تک مسافت

ایک بے معنی مسافت کی تھکن پہنے ہوئے
یہ قافلہ چلنے لگا ہے
پانیوں کے شور میں بھی رختِ جاں کشتی کی صورت
تیرتا جاتا ہے اب تو بادباں بھی پھٹ چکے
اِک مسافت اورہے
زندگی کی یہ مسافت میرے چہرے پر ذرا تحریر ہو
سو کوئی تدبیر ہو
میرے سورج اب کبھی چھُپنا نہیں
تا کہ اپنے سائے کو ہی روندنے کا یہ سفر جاری رہے
اور وجد بھی طاری رہے
زندگی سے جنگ بھی جاری رہے
گو زندگی کی جنگ میں مالِ غنیمت خواب ہیں
پر آج خوابوں سے نکل کر میں حقیقت کے سمندر پر
دِوانہ وار چلنے کے لیے تیار ہوں
میرے پیروں کو محبت کی تُو مت دھمّال پہنا
پھر کہیں ایسا نہ ہو اِن گھنگھرئوں کا شور سن کر
یہ سمندر جاگ اُٹھے
سر سے پائوں تک مسافت طے ہوئی تھی
اور میں دیوار سے لگ کر ابھی تک
اپنی قامت کا تعیّن کر رہا ہوں
آج میں چھپنے لگا ہوں
آمجھے تُو ڈھونڈ اور بس ڈھونڈ ۔۔۔