ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Maen Kahin Aur Ja Nahin Sakta | میں کہیں اور جا نہیں سکتا
Nazmen - نظمیں

سمجھوتہ

آئو ہم اس عشق کا کوئی نام رکھیں
کچھ سپنے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو
صرف کھُلی آنکھوں سے دیکھا جاتا ہے
اور کچھ بندھن ایسے بھی تو ہوتے ہیں
جن کو بس محسوس کیا جا سکتا ہے
پیڑ کے پتے گِر جائیں تو
پھر بھی اُس پر ویرانے تو بستے ہیں
دل کی کتنی خواہشیں بھی تو ایک ساتھ رہ سکتی ہیں
اک گھر میں دو کمرے بھی تو ہو سکتے ہیں
اک کمرے کے دو حصے بھی تو ہو سکتے ہیں
کچھ ناممکن ممکن بھی تو ہو سکتا ہے
جیون سے سمجھوتہ بھی تو ہو سکتا ہے