ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Dar Haqeeqat | در حقیقت
Nazmen - نظمیں

نظم

نظم لکھتے ہوئے سوچنا چاہئے
نظم ٹوٹے گی تو شاعروں کے قلم پر کسی چیخ کا ایک دھبہ لگے گا
کسی ہوک کا کوئی سُر بے سُرا ہو مرے گا
کوئی آگ جنگل جلائے بنا ہی بجھے گی
کہیں آب و گل کی کہانی رکے گی
کوئی بات ہونٹوں سے چپکی رہے گی
نظم لکھتے ہوئے سوچنا چاہئے
نظم تقدیر ہے
فاعلن فاعلن فاعلن کی مثلث کے پیچھے چھپی ایک زنجیر ہے
نظم آنکھوں سے بہتے ہوئے خون کی ایک تحریر ہے
نظم چڑیا نہیں ہے جسے آب و دانہ کے لالچ سے
۔۔۔۔۔ کوئی شکاری پکڑ کر کہیں بیچ دے
نظم پتھر نہیں جو کسی بھی دوانے کو مارو تو زخموں سے لیلیٰ مرے
نظم تو پانچ کومل سروںرے ، گا ، ما ، پا ، دھا کا ایک سنگیت ہے
نظم من میت ہے
قافیوں کے طلسمات اور صوت کے بوڑھے آہنگ سے نظم بنتی نہیں
اپنے فنکار کی سمت جاتی ہوئی
مسکراتی ہوئی
گنگناتی ہوئی
نظم گردش میں ہے
جانتے ہو یہ گردش فقط قافیوں اور ردیفوں کی گردش نہیں
یہ زمان و مکاں سے پرے لامکاں کی طلب میں
گناہوں ثوابوں سے نکلی ہوئی ایک گردش ہےجس میں
کسی دیوتا یا پری زاد کی کوئی خواہش نہیں
داد سے بھی پرے اور ڈرامائی انداز سے بھی پرے اپنی گردش میں گم
نظم حیرت کے ماروں کی اک روشنی
نظم دھرتی کے گیتوں کی اک راگنی
نظم آزاد ہے اور غلاموں کی فریاد ہے
نظم دکھ ہے خوشی جس میں آباد ہے
نظم انسان کا روپ دھارے ہوئے
غار سے یار تک لے کے جاتا ہوا ایک دستور ہے
نظم آزاد اور پہلی خواہش ہے آواز ہے
نظم جنت میں آدم نے تنہائی میں جب کہی تھی تو حوا بنی
نظم آنکھوں سے ہوتی ہوئی پسلیوں میں رکی تھی تو حوا بنی
نظم کہنے کو تو شاعری ہے مگر شاعری ہی نہیں
نظم اک راز ہے
راز کوشش سے کھلتا نہیں شاعرو
یہ عطا ہے ، عطا جس پہ ہو جائے تو
چاہے شاعر کہو یا ولی یا بھلے جو کہو۔۔۔ کیا غرض
شاعری تو غزل کے تماشہ گروں کا تماشہ ہے
۔۔۔۔۔ سو نظم کو شاعری مت کہو
نظم باھو کا عرفان ، بلھے کا وجدان ، خواجہ کی دستار ہے
نظم خسرو کی مستی ہے ، منصور کا دار ہے
نظم رومی و سعدی و اقبال و عطار ہے
نظم حیرت کے ماروں کا انکار ہے
نظم عیسیٰ کے لب سے ادا جب ہوئی تو محبت بنی
اور معبد کے دستور کو روندتی ضابطہ بن گئی
نظم راون کی لنکا جلاتی ہوئی
قہر ڈھاتی ہوئی
گنگناتی ہوئی
مسکراتی ہوئی
آگ ہے ، راگ ہے ، بھاگ ہے
تو مرے شاعرو ! نظم لکھتے ہوئے سوچنا چاہئے