ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Maen Kahin Aur Ja Nahin Sakta | میں کہیں اور جا نہیں سکتا
Nazmen - نظمیں

مسافتیں

تھکن سے اب جبینوں پر پسینے کی جگہ کیوں خون رِستا ہے
لہو جیسے رگوں کو چھوڑ کر اشکوں میں دوڑے ہے
بدن میں کیسا ہنگامہ بپا ہے
تھکن آنکھوں میں کیوں ہے
کہاں جانا ہے ہم کو
ہماری منزلیں کیا ہیں
سنو !تم بھی مسافر ہو
یہاں میں بھی مسافر ہوں
تو ہم کیسے مسافر ہیں
ہماری ناک میں کِس کی مشیّت کی نکیلیں ہیں
کہ جن کی سب مہاریں اک ہوا کے ہاتھ میں ہیں
ہوا جو اپنے کانوں میں ہمیشہ سائیں سائیں رقص کرتی ہے
کہ ہم سب ڈھور ہیں جن کے گلے میں ٹلّیوں کا شور ہے
اور ایک چرواہا ہمیں بس ہانکتا جاتا ہے
اور ہم چل رہے ہیں
(یعنی ہم عیسیٰ کی بھیڑیں ہیں )
کہاں جانا ہے ہم کو
ہماری منزلیں کیا ہیں
ہماری زندگی اِک بوجھ کی مانند ہے
وہ بوجھ جو ہم نے بدن کے اِس کجاوے پر
ہمیشہ لاد کر چلتے ہی رہنا ہے
ہم اپنے پاس مرنے کا ہنر بھی تو نہیں رکھتے
ٹھہر جائیں کسی پل کوئی گھر بھی تو نہیں رکھتے
کہاں پر کون بچھڑا ہے خبر بھی تو نہیں رکھتے