ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Dar Haqeeqat | در حقیقت
Nazmen - نظمیں

مدینہ

مدینہ

بارگاہِ حیات بسم اللہ
ائے مرے شش جہات بسم اللہ
نور میں ڈوبی رات بسم اللہ
ائے مری کائنات بسم اللہ
خیمۂ جاں چراغ بسم اللہ
ائے کھجوروں کے باغ بسم اللہ
عزتِ جسم و جان بسم اللہ
ہاشمی خاندان بسم اللہ
ائے عرب کے شعور بسم اللہ
اور عجوہ کھجور بسم اللہ
یا رسولِ خدا سلام ودرود
اے مرے ساقیا سلام ودرود
پاک و طیب نسب سلام ودرود
رحمتوں کے سبب سلام ودرود
راحتِ عاشقیں قدم بوسی
اے کہ سب سے حسیں قدم بوسی
اے زبانِ عجم قدم بوسی
دل بہ دل دم بہ دم قدم بوسی
راز دارِ خدا قدم بوسی
سید الانبیا قدم بوسی
قبلۂ عاشقاں رکوع وسجود
رہبرِ عارفاں رکوع وسجود
خاک کو سرفراز کرتا بدن
نور کو جلوہ باز کرتا بدن
چہرہ روحِ قدیم کا مظہر
ہاتھ اسمِ عظیم کا مظہر
مسکراہٹ کہ اشک تھم جائیں
رعب ایسا فرشتے گھبرائیں
خوش لباسی کہ پھول شرمائیں
خوش خرامی کہ رستے بن جائیں
سنگ کو طور کرنے والے قدم
خاک کو نور کرنے والے قدم
مرحبا حسن بانٹتا ہوا حُسن
مرشدا حسن بانٹتا ہوا حسن
شاہِ خوباں بس اک نظر مجھ پر
کھولیے راز بحرو بر مجھ پر

موت سے پہلے مر لیا میں نے
اپنا چالیسواں کیا میں نے
غم اتارے گئے ہیں سینے میں
میں پکارا گیا مدینے میں
دل بدست آیا ہے فقیر حضور
آپ کی زلف کا اسیر حضور
ساتھ ٹھنڈی ہوائیں لایا ہے
ہند سے اک غلام آیا ہے
ہوگئی حاضری مدینے میں
یعنی اب زندگی مدینے میں

دل مقامی سا لگ رہا ہے مجھے
عشق جامی سا لگ رہا ہے مجھے
خواب بن کر اترنے والے غم
اے مری جھولی بھرنے والے غم
چشم سے پھوٹتے ہوئے چشمے
خاک کو گوندھتے ہوئے چشمے
لامکاں آبسا مدینے میں
آسماں جھک رہا مدینے میں
دیکھ لو جو دکھائی دیتا نہیں
اور سنو جو سنائی دیتا نہیں
شعر کہتی ہوئی فضاؤں کو
آؤ سن لو یہاں ہواؤں کو
جو تجلی وہاں پہ طور میں ہے
وہ تجلی یہاں کھجور میں ہے
سبز سر سبز کرنے والا سبز
نور میں رنگ بھرنے والا سبز
صحنِ مسجد میں بھاگتی ہوئی روح
اپنی مستی میں ناچتی ہوئی روح
روح بچے کی طرح گھومتی ہے
اپنے آقا کے پاؤں چومتی ہے
بابِ جبریل وا ہوا پھر سے
دل حدیثوں سے بھرگیا پھر سے
بابِ جبریل کی طرف سوئے
کربلا کے دکھوں میں ہم کھوئے
پیاس اصغر کی ہم کو یاد آئی
صفا مروا سے دشت میں لائی
خاندانِ رسول زندہ باد
سیدا پھول پھول زندہ باد
میں نے جھاڑو دیا مدینے میں
صاف دل ہوگیا ہے سینے میں

احد

غار سے نور کی طرف آیا
احد اور طور کی طرف آیا
احد کے سائے میں رہا کئی دن
میں خدا سے یہاں ملا کئی دن
ائے پنہ گاہے مصطفےٰ ﷺ تجھے پیار
ائے پہاڑوں کے بادشہ تجھے پیار
پتھروں میں مقام تجھ کو ملا
یعنی اذنِ کلام تجھ کو ملا
آپ ﷺ کا احترام آتا ہے
پتھروں کو کلام آتا ہے
یہ محبت کی استقامت ہے
احد زندہ ہے اور سلامت ہے
آپ ﷺ کو دیکھ عشق کرنے لگا
آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے چلنے لگا
کتنا روشن ہے اور شتابی ہے
زائرو ! احد بھی صحابی ہے
چوم کر احد مسکرایا میں
اک صحابی کو مل کے آیا میں
احد ، احمد ، احد ، خدا جانے
راز کیا ہے وہ مصطفےٰ ﷺ جانے
گندمی نے سنہرا پایا ہے
احد کا رنگ مجھ پہ آیا ہے
چاہتا ہوں کہ سنگ ہو جاؤں
اور تری گود میں ہی سو جاؤں

حضرت سائیں امیر حمزہ

بدر کے شہسوار بسم اللہ
میرے آقا ﷺ کے پیار بسم اللہ
والی ٔشہرِ عشق جھک کے سلام
کائناتِ وفا کے سارے سلام
طاقتِ دینِ مصطفےٰ ہیں آپ
ہیبت و قوتِ خدا ہیں آپ
اپنی جاں پیش کرنے آیا ہوں
آپ کا پانی بھرنے آیا ہوں
آپ جیسا چچا کوئی نہیں ہے
اس قدر با وفا کوئی نہیں ہے