ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Maen Kahin Aur Ja Nahin Sakta | میں کہیں اور جا نہیں سکتا
Nazmen - نظمیں

کوئی ایسا کھیل سکھا دے مولیٰ

مجھ کو بھی کوئی ایسا کھیل سکھا دے مولیٰ
تُو جب کھیلنے لگتا ہے تو
کسی کی کوئی چیز یا شیشہ ٹوٹ بھی جائے
تجھ پر کوئی بھی الزام نہیں آتا
بچے کو تُو بوڑھا کر دے
اور بڑھاپے کے دکھ اس کی پیٹھ پہ دھر دے
ماں سے اُس کا بیٹا چھین کے اُس کو اندھا کر دے
کسی کو دکھ دے
یا تُو کسی کے دکھ پہ ایک بھی آنسو تک نہ بہائے
تو بھی تجھ پر کوئی الزام نہیں آتا
دکھ سکھ کی اس دھوپ اور چھائوں کا
تجھ پہ ذرا بھی اثر نہیں ہوتا
مجھ کو بھی کوئی ایسا کھیل سکھا دے مولا
یعنی دکھ سکھ مجھ تک آتے آتے بے معنی ہو جائیں