ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Maen Kahin Aur Ja Nahin Sakta | میں کہیں اور جا نہیں سکتا
Nazmen - نظمیں

خواب ٹوٹ جاتا ہے

چاند سا بدن کوئی
آنکھ کی حویلی میں
روز ایسے آتاہے
نور پھیل جاتا ہے
روشنی سی ہوتی ہے
آنکھ کی سیاہی میں
آنکھ کھلنے لگتی ہے
اور ہماری پلکوں کا ساتھ چھوٹ جاتاہے
خواب ٹوٹ جاتاہے
خواب ٹوٹ جانا بھی
اِک عجب اذیّت ہے
خواب ٹوٹ جائے تو
نیند اکثر آنکھوں میں
بین کرنے لگتی ہے
ماتمی سی انکھوں میں
ایک شکل اُبھرتی ہے
اجنبی سے چہرے کو
کون یاد رکھتا ہے
یاد پھر بھی کرنا ہے
ایک خواب اُترنا ہے
ایک خواب کی خاطر
رات وضع کرتے ہیں
اور سونے لگتے ہیں
خواہشوں کے جنگل میں
پھر سے چلنے لگتے ہیں
خواہشوں کے جنگل میں
راستے نہیں ہوتے
بھولنے کے ڈر سے ہم
خود ہی لوٹ آتے ہیں
خواہشوں کے جنگل سے
تب کوئی بلاتا ہے
بھولنے کے ڈر سے ہم
پھر وہاں نہیں جاتے
ہم وہاں نہ جائیں تو کوئی روٹھ جاتا ہے
اور پھر اچانک ہی خواب ٹوٹ جاتا ہے