ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Haal | حال
Nazmen - نظمیں

عشق

نہ ضبط تھا نہ کوئی ضابطہ بنا تھا ابھی
نہ چلنے والاتھا کوئی نہ راستہ تھا ابھی
زمین تھی نہ کہیں آسمان بھی نہیں تھا
مکان بھی نہیں تھا لامکان بھی نہیں تھا
ہر اِک خیال سے پہلے خیال عشق کا تھا
جمالِ ذات سے پہلے جمال عشق کا تھا
کوئی جواب نہیں تھا سوال عشق کا تھا
پھر اک ارادہ ہُوا جو کمال عشق کا تھا
یہ عشق ہے جو محمد ﷺبھی ہے احد بھی ہے
یہ عشق زیر زبر پیش اور شد بھی ہے
یہ عشق ہے جو محمد ﷺ بھی کبریا بھی ہے
یہ عشق ہے کہ جو بندہ بھی ہے خدا بھی ہے
یہ کائنات سجائے ہوئے ہے حضرتِ عشق
کہ رات دن کو جگائے ہوئے ہے حضرتِ عشق
نہ اس میں کل تھا نہ کل ہو گا آج ہوتا ہے
کہ عشق نفس پہ دنیا پہ راج ہوتا ہے
تُو اپنی خاک ِ بدن سے بنا جہاں کے چراغ
پھر اپنے عشق کی لَو سے جلا جہاں کے چراغ
تُو خانقاہوں کا قیدی تو مسجدوں کا اسیر
نہ تیرا جسم محبت نہ تیرا نام فقیر
فصیلِ جسم میں تُو کس لیے چھپا ہُوا ہے
تُو دشت و دریا کی ہیبت سے کیوں ڈرا ہُوا ہے
زمانہ تیرے لیے ہے زمانہ ساز ہے تُو
خدا نہیں ہے تو کیا غم خدا کا راز ہے تُو
تُو اپنے تن سے نکل اور من ہی من ہو جا
تُو خار خار رگِ گل سے گلبدن ہو جا
جو گفتگو میں ضروری ہے وہ سخن ہو جا
کہ خلوتوں سے نکل کر تُو انجمن ہو جا
خدا سے خاص محبت کا حق بھی تیرا ہے
اور اِس زمیں پہ خلافت کا حق بھی تیرا ہے
تُو خوفِ مرگ میں ہے مبتلا ہلاکت ہے
نہ تیرے پاس فقیری نہ تُو محبت ہے
خدا کے عشق میں تحقیر سے تُو ڈرتا ہے
عجیب بات ہے تقدیر سے تُو ڈرتا ہے
خدا سے ڈرتے ہیں تعزیر سے نہیں ڈرتے
کہ حق پرست تو تقدیر سے نہیں ڈرتے
تجھے خبر ہی نہیں ہے دراصل کیا ہے تُو
کہ اِک غلامِ غلامانِ مصطفی ﷺ ہے تُو
ہراِک مقام سے آگے قیام ہے تیرا
بنامِ عشق جو لکھا تھا نام ہے تیرا
مقام و منزل و دنیا سے پورا کٹ کر دیکھ
تُو اِسمِ ذات کما اور اپنے اندر دیکھ
تُو دم کو قید لگا اسم کے تصور میں
ڈبو دے خود کو محبت کے اس سمندر میں
شکست موت کو دے کر حیات میں آجا
تُو حق کی رمز بھری کائنات میں آجا
لباس ھو کا پہن کر تُو پا نشاں اپنا
وہ تجھ میں اور تُو اُس میں بنا جہاں اپنا
تو اپنی میں سے نکل اور تُو ہی تُو ہو جا
اور اُس کے عشق میں ھو ھو سے ہو بہو ہو جا