ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Haal | حال
Nazmen - نظمیں

ہجر

سب تعریفوں کے تو لائق تیرا چاک کمال ہے
تیرا گیان عبادت ہے اور تیرا دھیان جمال ہے
عشق بھی تو عاشق بھی تو اور تو سب کا لج پال ہے
سارے سوال جواب کرے تو لیکن آپ سوال ہے
خود ہی صورت گر ہے سب کا سب کی صورت آپ ہے
سب کے روپ ہیں اس کا درشن عشق محبت آپ ہے
آپ ہی افسانوں کی صورت اور حقیقت آپ ہے
آپ وصال کی راحت ہے اور ہجر کی لذت آپ ہے
ہجر سے چھپنا چاہتے تھے ہم‘ عشق کی چادر ڈال کے
آن زمین پہ جم بیٹھے ہیں لوگ تھے ہم پاتال کے
شان میں تیری شعر لکھے ہیںعطر میں مصرعے ڈھال کے
اگر اجازت ہو تو بولیں جوگی ایک سوال کے
ایک سوال محبت کا ہے ایک سوال ہے یار کا
ایک اداسی کا موسم ہے ایک گلہ دلدار کا
تنہائی میں گزر گیا ہے موسم عین بہار کا
پوچھنے والا کوئی نہیں ہے حال ترے بیمار کا
ایک گرفت زمانے کی اور ایک شکنجہ موت کا
اک تاریکی نیند بھری اور ایک اندھیرا جاگتا
ہجر میں ڈوبا ساز پڑا ہے درد کا راگ الاپتا
وہی بچائے آکر ہم کو جو خود ان سے بچ سکا
پیر فریدؒ علاوہ تیرے کون کرے دلداریاں
کون اُٹھائے ناز کسی کے، کون نبھائے یاریاں
کون سنے اِس ہجر کے قصے‘ کون کرے غمخواریاں
رو رو یار کے ہجر میں ہم نے اپنی آنکھیں ہاریاں
شعر‘ شعور سے جوڑ کے ناطہ خود کو بھوگ لگا لیا
عشق میں غفلت برَت کے ہم نے فن کو روگ لگا لیا
جان کے سرمہ آنکھوں میں جب چاہا سوگ لگا لیا
روح کو یکسر بھول کے ہم نے تن سے جوگ لگا لیا
نیچ بہت تھے سائیاں ہم نے نیچا پن دکھلا دیا
برتن زنگ آلود تھا لیکن رگڑ رگڑ چمکا دیا
عطر فروشی کرتے کرتے نقلی عطر بنا دیا
یعنی بھیس بدل کر ہم نے خود کو کہیں دفنا دیا
بھول خدا کو ہم نے ڈھونڈا عدل کسی زنجیر میں
مذہب‘ دین‘ ایمان کو ہم نے صرف رکھا تحریر میں
اصل کو بھول کے یار کو ڈھونڈا ہم نے سدا تصویر میں
یار نہ پایا تو پھر گن گن عیب گنے تقدیر میں
جسم کہیں پہ ڈھیر کیا اور دھیان کہیں پہ لگا لیا
چولا سبز پہن کر ہم نے خود کو پیر بنا لیا
آگ پکڑنے کی کوشش میں اپنا ہاتھ جلا لیا
قسمت سے ناراض ہوئے جب ہم نے سب کچھ پا لیا
ٹوبھے سب ویران ہوئے ہیں سوکھ گئی ہریالیاں
من من بھاری لگنے لگی ہیں کانوں کی اب بالیاں
ڈائن بن کے خون کو چوسیں ہجر کی راتیں کالیاں
یار بنا سب زرد ہوئی ہیں رخساروں کی لالیاں
سب کردار مرے جاتے ہیں بھول رہی ہیں کہانیاں
پیت پریت کا نام نہیں ہے خاک ہوئی ہیں نشانیاں
اَن دیکھے اک ہجر میں کھوئیں الہڑ شوخ جوانیاں
غم کی آج کنیزیں ہیں سب اپنے وقت کی رانیاں
بھر بھر پیلو چگنے والی خالی ہیں اب جھولیاں
پینگھ پنگھوڑے ٹوٹ گئے اور روٹھ گئی ہمجولیاں
گیت گویے مرنے لگے اور فوت ہوئی ہیں بولیاں
عشق نے کتنی جٹیاں سائیاں روہی میں ہیں رولیاں
عشق کے پالن ہار فریداؒ ! سانول اپنے گھر گئے
اور دھمالیں ڈالنے والے مست الست بکھر گئے
جو’’ سبحان تری قدرت‘‘ کہتے تھے تیتر‘ مر گئے
روہی کے ویرانے کو بس نام ہمارے کر گئے
روہی کی سنسان شبوں میں اپنے آپ کو کھو دیا
جسم کھجوروں کی شاخوں پہ ’’ڈوکا ڈوکا‘‘ پرو دیا
دیکھ کے حال ہمارا ریت کا ذرہ ذرہ رو دیا
گندم کے کھیتوں میں مولا’’ جنگلی جئی‘‘کو بو دیا
پھولوں کی خواہش میں ہم نے کتنے کانٹے پا لئے
کانٹے جو پیروں میں چبھے تھے آج سروں تک آ لئے
زہر رگوں میں پھیل رہا ہے آپ ہی آ کے نکالئے
’’میٹھے بیر‘‘سمجھ کر ہم نے ’’کڑوے تمیّ‘‘کھا لئے
یار عجب ہیں خوش بیٹھے ہیں دل کی بازی ہار کے
قسمت آگے بند ہوئے دروازے سوچ بچار کے
سارے لوہے ڈھل جاتے ہیں آگے اک لوہار کے
جنگ شدید تھی چاہت والی‘ وار تھے اپنے سنار کے
اشک ہمارے پاس تھے جو پل بھر میں وہ سب بہہ گئے
حجرے جو تعمیر کیے تھے آن کی آن میں ڈھہہ گئے
ایک ہی عشق کیا تھا ہم نے اور اُس میں بھی رہ گئے
ہم اپنی اوقات سے بھی بڑھ کر مولا دکھ سہہ گئے
سونا پیتل لگنے لگا ہے ہوش ہمارے عجب گئے
ریت سے جی کو ایسے لگایا چھوٹ کھلونے سب گئے
پیر فریدؔ بھی روٹھ کے شاید ہم سے دیس عرَب گئے
 ہچکی ہچکی سانس رُکا اور آخر جان بہ لب گئے