ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Maen Kahin Aur Ja Nahin Sakta | میں کہیں اور جا نہیں سکتا
Nazmen - نظمیں

فصیل عشق کی بنیاد سے آواز آئی

خیالِ یار کی اُنگلی کسی معصوم جذبے نے پکڑ لی ہے
فصیلِ عشق کی بنیاد سے آواز یہ آئی
کہ ’’بابا‘‘ ضد نہیں کرتے
محبت ایسی آوارہ مسافت سے نہیں ملتی
قبیلےچھوٹ جاتے ہیں
ہم ایسے لوگ تو دراصل چاہت کے کھلونے ہیں
جو اکثر ٹوٹ جاتے ہیں
محبت کے شبستاں میں رہائش کیسے ممکن ہو
کہ ہم محنت کش اہلِ وفا اکثر
کسی زندان کی دیوار میں چُنوائے جاتے ہیں
محبت ایسا دھاگہ ہے
جسے ہم کس کے باندھیں تو یہ اکثر ٹوٹ جاتا ہے
سنو ہم لوگ تو مجنوں کے وارث ہیں
اگر صحرائوں سے نکلیں بھی تو پتھر کے پھولوں سے
بدن مہکائے جاتے ہیں
فصیلِ عشق کی بنیاد سے آواز آئی
عشق تیشہ اور سر کا درمیانی فاصلہ ہے
جس کو طے کرنے لگیں تو عمر بھر چلنا بھی کم ہے
اور تھک جائیں تو اِک لمحہ بھی کافی ہے