ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Dar Haqeeqat | در حقیقت
Nazmen - نظمیں

فقیر

حمد

بسم اللہ پریم کا نام ہے اور پریم ہوا آغاز
ہر صورت جس میں حُسن ہے ، ہر نام کہ جس میں راز
وہ نام کہ جس کی صوت میں اک صورت پوشیدہ
وہ صورت جس کے رنگ میں ہر نعمت پوشیدہ
گر جاپو نام الاپ ہے گر دیکھو تو گُر روپ
گُر مرشد ہادی پریم کا گُر گُر کا ہے بہروپ
دو آنکھیں تھوڑی پڑ گئیں دیدار کی خواہش میں
میں پیاسہ روتا رہ گیا اس حسن کی بارش میں
آنکھوں میں اس کا بھید ہے دیدار ہے اس کا عشق
ہونٹوں پر اس کی بات ہے اظہار ہے اس کا عشق
وہ قاتل ہم مخلوق ہیں تلوار ہے اس کا عشق
ہم کنبہ اور مخلوق ہیں سردار ہے اس کا عشق
زنجیر بنائے پریم کی اور باندھے اپنے یار
گونگے کو بخشے بولنا اور اندھے کو دیدار
وہ پھینکے جلتی آگ میں پھر آگ کرے گلزار
وہ آپ بنائے کھیلنے اور آپ کرے مسمار
وہ خاک کا اگلا رنگ ہے اور خاک ہوئی مجذوب
ہر جلوہ اس کا جذب ہے سو خاک ہوئی محبوب
وہ چاہے خاک کو نار دے وہ چاہے بخشے نور
وہ چاہے ظاہر آپ ہو وہ چاہے رہے مستور
وہ چاہے عجز نواز دے وہ چاہے کرے مغرور
وہ چاہے ہم کو میل دے وہ چاہے رکھے دور
وہ چاہے برکت ڈال دے اور شعر بھی ہو مقبول
وہ چاہے نقطہ کھول دے وہ چاہے بات میں طول
وہ صورت بخشے اسم کو صورت پر نین کمال
وہ حاضر اور حضور ہے وہ اپنا آپ جمال
ہم کھوئے پاک جمال میں ہم مست ہوئے مستور
ہم سمجھے رمز حضور کی ہم ناچے پیش حضور
وہ مرشد ہادی آپ ہے اور کھیلے کھیل عجیب
وہ اپنا عاشق آپ ہے وہ اپنا آپ رقیب

نعت

رخ سیدھا رستہ عشق کا اور خوشبو رہبر ہے
لب لعل گہر یاقوت ہیں آواز مقدر ہے
من پاک پوتر نور ہے اور نور پہ نور غلاف
تن کعبہ ہر مخلوق کا جو دیکھے کرے طواف
کن آپ کی اپنی بات ہے اور عبد مقام ہوا
تعلیم کریں اخلاق کو اور فقر اسلام ہوا
سب حمد الف اور میم ہے اور میم احد کا راز
اس میم سے ہی مخلوق ہے اس میم میں دم اور ساز
مخلوق نہیں مخلوق میں سب کھیل حجابی ہیں
بے عقلے عاقل ہوگئے بے دیدے حاجی ہیں

سائیں حسین پاک کی بارگاہ میں

سردار بھلے سردار جی تم عشق صحیفہ ہو
تم راضی مرضی یار کے ہمیں اپنا جھوٹا دو
تم فخر ہو آقا پاک ﷺ کا تم فقر کی ہو پہچان
تم بی بی پاک کا نور ہو سلطانوں کے سلطان
تم شیرِ خدا کے لاڈلے دل والوں کے سردار
تم سائیں حسن کا پیار ہو اور نانا کی دستار
تم پاک ازل سے پاک ہو اور کن سے پہلے نور
تم تھے جب کوئی تھا نہیں دو آنکھوں میں مستور
تفسیر ہو کلمہ پاک کی جو دور کرے ظلمات
تم چلتے پھرتے نور ہو تم مولا کی ہو ذات
تم ہمت ہو عشاق کی اور الااللہ کا راز
تم اسماعیل کا پریم ہو اور ابراہیم انداز
تم ساجد کے ہو دوش پر اور سجدہ ہوا طویل
تم عین وضاحت عشق کی اور حق کی صاف دلیل
تم گردن پر قربان ہم جہاں بوسے دیں سرکار
تم رحمت کی آغوش میں تم جنت کے سردار
تم مالک ہو مخدوم ہو ہم کیسے کہیں مظلوم
تم خلقت میں حق بانٹتے ہم کیسے کہیں محروم
سردار بھلے سردار جی تم پر ہو درود سلام
تم خاص طریقت فقر کی تم اصل میں اسلام
تم ابرو جو تلوار ہیں ہم اس تلوار کی دھار
تم آنکھیں جو دستور ہیں ہم ان کے تابعدار
یہ دس دن کا کب عشق ہے یہ عشق ہے پورا سال
یہ گیان میں پورا ہجر ہے اور دھیان میں عین وصال
سردار بھلے سردار جی تم لج ہو اور لج پال
ہم منگتے ہیں سردار جی ہمیں بھر بھر دیجے تھال
بوجہل یزید سے پاک ہے یہ ہند تمہارا ہے
سردار بھلے سردار جی سب تم پر وارا ہے
آدم کی دھرتی چاہتی تم آپ ظہور کرو
چاہے تو ظاہر ہو رہو چاہے مستور رہو

سخی میراں

سرکار محی الدین جی دل کانپے ہر ہر گام
ہم بے ادبے ناپاک ہیں اور پاک تمہارا نام
بغداد کے مالک صاحبا ! بغداد رہے آباد
ہم بدو ہیں بدکار ہیں سن درد بھری فریاد
جھولی میں سو سو چھید ہیں اور دل میں وہم بڑے
ہمیں حاضر شو کا اذن ہو ہم آپ کے پاؤں پڑے
دل دار بھلے دل دار جی اک بھیک نظر کی ڈال
ہم دل والے مجبور ہیں بے سُر ہیں اور بے تال
تم جاہ و جلال و جمال ہو تم قادر اور قدیر
تم صوت کا پورا حکم ہو اور اسم کی ہو تصویر
تم بخشش کا فرمان ہو اور فقر کے ہو سلطان
تم جیون بخشو دین کو عشاق کا ہو ایمان
تم شعر کا مست خیال ہو تم نظم کا روپ سروپ
تم صحرا کی ہو چاندنی تم جنگل کی ہو دھوپ

ہم لوگ

ہم لوگ برہمن پریم کے اک مومن اپنا یار
ہم بدھا برگد بھوگتے ہم کعبے کے معمار
ہم پریم نگر کی خاک ہیں اور پانی زم زم کا
ہم طور پہ جلتی آگ ہیں اور بہکی تیز ہوا
تورات انجیل زبور ہیں ہر سانس میں ہیں قرآن
ہر ایک صحیفہ پریم ہے اور پریم خدا کی شان
ہم عارف ہیں اک ذات کے جس ذات میں سارے بھید
ہم قاری صورت یار کے کیا جنتر منتر وید
ہم چاکر پاک رسولﷺ کے صدیق عمر عثمان
ہم نوکر حسن حسین کے ہم مولا پر قربان
ہم عین حقیقت دیکھتے ہم پہلے پہلے چار
ہم الا اللہ کا راز ہیں ہم دنیا کے سردار
ہم شور نگر کی خاک ہیں اور کوٹ مٹھن کا دان
ہم پیر وراق کی گود میں کھیلے اور ہوئے جوان
ہم قادر کے ہیں قادری ہم باھو کے سلطان
ہم پیر بہادر شاہ کے سخی اصغر کی پہچان
ہم دوست ہیں جبرائیل کے اقبال ہمارا یار
ہم فقر فنا کا بھید ہیں ہم ریشم ہم تلوار
ہم خادم بھی مخدوم بھی ہم جٹ بھی اور سادات
ہم جاگیں تو دن جاگتا ہم سوئیں تو سوئے رات
ہم مست ازل کے مست ہیں ہر شجرے کا آغاز
ہم کلمہ روزہ آپ ہیں ہم حج زکوت نماز
بغداد ہمارا جھنگ ہے بے داغ ہمارا رنگ
وہ یار ہمارے ساتھ ہے ہم جس کے سات ملنگ
ہم سینے سے بغداد ہیں اور چہرے سے لاھوت
ہم آنکھیں ہیں ھاھوت کی اور دیکھ رہے ناسوت
ہم چشت بہشت کے میزباں ہم پاک پتن کا گُڑ
ہم سارنگی کے تار ہیں ہم طبلے کا ہیں پُڑ
ہم کن سنتے ہی ہوگئے سنتے تھے یعنی تھے
ہم مست الست کے روز کے بس اُس کو دیکھ رہے
ہم ہونی کا اسباب ہیں اور جیون کا دستور
ہم جیتے گردن تان کے اور کہلاتے مغرور
ہم نفی بھی ہیں اثبات بھی ہم پتھر بھی اور خاک
ہم پاکوں میں ناپاک ہیں اور ناپاکوں میں پاک
ہم لاکھ کروڑ میں ایک ہیں اور ایک کے جان نثار
ہم تین سو تیرہ مست ہیں ہم دشمن پر تلوار
ہم تہمت کھاتے پریم کی اور پیتے شوق شراب
ہم بازی کھیلیں عشق کی اور ہاریں اپنے خواب
ہم وصل کے روزہ دار ہیں اور ہجر بھرے صدمات
ہم دن میں دیکھیں چاندنی اور سورج دیکھیں رات
ہم بولیں جو بھی بول دیں وہ خود ہونے لگ جائے
سورج کی تابش خاک ہو اور چاند کھڑا شرمائے
ہم باغی باغ بہشت کے ہم دھرتی کے ہیں پیڑ
ہم سوئیں پریم کی آگ پر اور ناچیں ماس ادھیڑ
ہم بھیرو ٹھاٹھ کے راگ ہیں ہم صبح کا مست الاپ
ہم لوگ کبوتر عشق کے اور ھو ھو ہر دم جاپ
ہم اندر جنگل بار ہیں ہم اندر ہیں بازار
ہم کنجری بن کے ناچتے جوں رکھے سوہنا یار
ہم مٹی ماریں جسم کی اور پائیں دشت کی ریت
ہم گندم بوئیں پریم کی اور کاٹیں ہجر کے کھیت
ہم مٹی کے بازار میں ڈھونڈیں ہیرے اور لعل
ہم گائیں ہجر کی راگنی اور کھیلیں دھول دھمال
ہم سجدے میں سج دھج گئے اور ڈٹ کے کیا قیام
ہم ہند کے اتھرے جاٹ ہیں آقاﷺ کے خاص غلام
ہم چلتے پیر گھسیٹ کے ہم شین کو بولیں سین
ہم لوگ مسافر عشق کے ہم خاطر مرشد دین
ہم اپنے آپ کا راز ہیں ہم فطرت کے اسرار
ہم لوگ سنہرے گندمی ہم داتا کے اوتار
وہ غائب غیب کے راز میں ہم حاضر اور حضور
وہ چھپا ہوا لاھوت میں ہم دنیا میں مشہور
ہم خادم اپنے پیر کے ہم کہلائیں سلطان
یہ جلوے کوئی اور ہیں تم سمجھے ہو انسان
ہم لوگ بڑے بے خوف ہیں لو تھام ہمارے ہاتھ
لج پال ہمارے ساتھ ہیں ہم لج پالوں کے ساتھ
ہم پاپی خاکی خاک ہم نار بھی ہیں اور نور
ہم بوجھ اٹھائیں پریم کا ہم خلقت کے مزدور
ہم سنتے دیکھتے سونگھتے ہم چکھتے چھوتے لوگ
ہم راز ہیں اپنے راز کا اور جوگی کا ہیں جوگ
ہم شعر کہیں تجھ حسن پر اور گائیں درد ہزار
جب بھڑکے آتش عشق کی تو جلیں دوانہ وار
ہم مشرق مغرب کے نہیں اب بھول چکے طرفین
ہم عین اور غین سے ماورا بس دیکھ رہے دو نین
ہم ظالم اپنے نفس پر مظلوم کی طاقت ہیں
ہم باغی دنیا دار ہیں دنیا پر حجت ہیں
ہم مر کر زندہ ہوچکے اب جیون دان کریں
اک محسن کے ہم بالکے سب پر احسان کریں
ہم دم دم سائیں جاپتے اور دھم دھم کریں دھمال
ہم مستقبل میں بیٹھ کر ماضی میں رکھیں حال
ہم باہر ہیں اس کھیل سے اور دیکھ رہے ہیں کھیل
ہم اندر سارا کھیل ہے ہم اندر سارا میل
یہ ایک کے سارے کھیل یہ ایک کے سارے رنگ
اس ایک میں ہم بھی ایک ہیں یہ ایک عجیب ملنگ
ہم لوگ الف کی خامشی ہم آنکھ سے کرتے بات
ہم صفتوں سے منہ پھیر کے اب دیکھ رہے ہیں ذات

تم لوگ

تم مکتب کے مجبور ہو ہم پڑھے پڑھائے لوگ
تم بھوگو اپنی بھوگنی ہم جانیں اپنے سوگ
تم سات کو گنتی جانتے ہم سات کو جانیں ساتھ
تم پانچ جدا کر دیکھتے ہم پانچ کو مانیں ہاتھ
تم آنکھوں والے لوگ ہو ہم خواب کے اندر خواب
ہم پاپی کوڑھی عشق کے تم نیکی اور ثواب
تم ملاں صوفی بن گئے اور صوفی غیر صفا
تم پیٹ کے مارے شیخ ہو اور بیچو نام خدا
تم ٹخنوں کو ننگا کیے حوروں کو بیچ رہے
تم جنت کے تھے لالچی سو موت حرام مرے
تم مکے کے مکار ہو اور طائف کے بے کار
ہم یثرب کے ایوب ہیں ہم حبشہ کے سردار
تم اسود پتھر چومتے ہم چومیں یار کا مکھ
تم آگ جلاؤ پیٹ کی ہم تاپیں اپنے دکھ
ہم لوگ ستارا وار ہیں ہم چاند کے صحبت دار
تم آگ کو پوجو خوف میں ہم آگ کریں گلزار
ہم حجت اپنی آنکھ پر ہم دیکھیں اپنا آپ
تم دیکھو اپنی نیکیاں ہم دیکھیں اپنے پاپ
تم اونچا اونچا بولتے اور بولو کڑوے بول
بس کان ہمارے کھا گئے تم پھٹے پرانے ڈھول

میں

سب باتیں ہیں اس راز کی جو سب پر کھول رہا
میں بول ہوں اس آواز کا جو سب میں بول رہا
میں کمی اپنے یار کا میں کاہے کا درویش
نا کپڑے کالے رنگ کے نا لمبے میرے کیش
نا عالم فاضل شخص ہوں جو مفتی کہلاؤں
نا سمجھا دنیا داریاں جو تجھ کو سمجھاؤں
نا صاحب ، صاحب زاد ہوں نا کوئی گدی نشین
نا بیچ سکا میں یار کو نا بیچا مذہب دین
نا حاجی مکے شہر کا نا باندھ سکا احرام
نا نفل نماز کا نیتی نا کوئی پیش امام
نا جوگی جنگل بار کا نا چلے کا بے کار
نا پانچ نمازیں پڑھ سکا نا بھوکا روزے دار
نا نعرہ مارا حیدری نا نیکی اور نا پاپ
نا لگن نہ کوئی لاگ ہے نا اونچے اونچے جاپ
نا مست کہ مستی خاص ہو نا میرا کوئی روپ
نا نام کمایا جا سکا نا عشق مرا بہروپ
نا صورت ایسی خاص ہے جو مڑ مڑ دیکھیں لوگ
نا مالا پہنی کاٹھ کی نا بھاگ نہ کوئی بھوگ
نا سنی سنائی مانتا نا بولی اپنی بات
نا ہجر کمایا یار کا نا وصل کی پائی رات
نا شعر بنایا کام کا نا شاعر اور حکیم
بس دوست ہوں اپنے دوست کا اور پایا نام ندیم
یہ بوسے لیتی میم ہے چومے آقا ﷺ کے پیر
یہ میم الف کا حسن ہے اس میم میں ساری خیر
یہ میم مرے سرکار کی اس میم پہ میں قربان
یہ میم مری پہچان ہے یہ میم ہے میری شان

مرشد

صاحب کا نشہ اور ہے کیا جانیں یہ مئے نوش
کیا لطف ہے دل کی بات میں سن پائیں کب خر گوش
ہر بات سے بات فضول ہے ہر سخن کہاں مقبول
ہر چپ میں پورا گیان ہے ہر خاموشی مشغول
یہ بات احد کی بات ہے گھونگھٹ ہے جس کا میم
بس ایک سے ایک سے ایک ہے کثرت میں ہے تقسیم
یہ مرشد پر ایمان ہے جو کہے کرائے دین
یہ اک صورت کا دھیان ہے اور نام دھرائے تین
اک جوگی میں ہم مست ہیں اک صورت پر ہے دھیان
اک عشق خرید شوق سے اور بیچ دیا ایمان
میں کملی اپنے یار کی میں ہوش سے بے گانی
اک حسن ہے ہر دم سامنے میں جس کی مستانی
ہر شان بنی اس واسطے ہر نام اسی کا ہے
وہ پاپ جلی کے واسطے مجھ پاپ جلی کا ہے
میں شرم حیا سے دور ہوں اور عشق مرا بے باک
لج پال سخی لج پال جی میرا سینہ ہوگیا چاک
میں ناچوں تڑپوں پریم میں اور پھینکوں دور حجاب
میں ایسی ماہی سائیاں جو چھوڑ چکی ہے آب
مرے ماتھے میں بغداد ہے اور سینے میں ہے جھنگ
مرا جوبن عین بہار ہے اور مجھ پر سارے رنگ
میں دن جیسی بے داغ ہوں اور چنری میری رات
میں مست ہوئی مستور میں اور بھول چکی اوقات
سلطان بھلے سلطان جی تم صحرا کے سلطان
تم تھل کے روشن چاند ہو اور روہی کے پردھان
تم جیتے بازی پریم کی ہر جیت تمہاری ہے
یہ روہی کی جو ہار ہے اک جٹی ہاری ہے
سلطان بھلے سلطان جی میں نازک اور کمزور
سب ہار سنگھار کو بھول کے میں بھاگی تیری اور
میں بھاگی تجھ کو دیکھ کے مرے پاؤں آئی موچ
اک پتھر سے ٹکرا گئی اور ٹوٹ گئی ہر سوچ
سلطان علی سلطان جی فریاد سنو فریاد
ہر سوتن تعنے مارتی مری آپ کرو امداد

بھید

بسم اللہ با موجود ہے پر الف ہوا خاموش
یہ وصل کا پورا بھید اور ذات میں پورا ہوش
ہم لوگ الف کی خامشی ہم آنکھ سے کرتے بات
ہم صفتوں سے منہ پھیر کے اب دیکھ رہے ہیں ذات
آواز اذان کی تھی نہیں چھپ کر تھا میل ملاپ
یہ خاص طریقت عشق کی جو دنیا سمجھے پاپ
یہ عشق ہے بارا سال کا جب صورت پر تھا دھیان
جب چھپ کر ملنا حکم تھا اور درشن تھا ایمان
ہم جاگے آدھی رات میں اور پورا عشق کیا
جب پیاس لگی تو کھا لیا اور بھوک لگی تو پیا
شفاف بدن کا ذکر ہے اور پاک نظر کا کھیل
یہ موت سے پہلے موت ہے یہ صاحب کا ہے میل
یہ بات نہ کوئی فلسفہ جو عقل شعور میں آئے
گونگے نے گڑ تو کھا لیا اب کھا کر کیا بتلائے
یہ دو نینوں کا دور ہے اور آئینے کا تخت
یہ ایک لطیف کی بات ہے اور ایک کثیف کا بخت
کنتُ ھاھویت مرتبہ وہ ھ کی آنکھ میں تھا
اور آنکھ کے اندر عشق تھا جو دیکھنے والا تھا
اس ھ سے واؤ مل گئی جو ھو کا تھا اعلان
اعلان کی خاطر صوت ہے کن جس کا تھا فرمان
ھو ھو میں ھ مستور ہے اور ھ کی آنکھیں عین
عاشق کو دید سے کام ہے اور عاشق نین کے نین
کنزاً یاھوت کا دور ہے اس وقت خزانہ تھا
وہ مخفیاً لاھوت میں جسے دل نے پانا تھا
یہ چھپے ہوئے کی بات ہے سو چھپ چھپ کر کی جائے
یہ راز نیاز ہیں عشق کے بے سمجھا سمجھ نہ پائے
تقریب سجائی پریم کی پر پریمی کوئی نہ تھا
وہ اپنا جلوہ آپ تھا جو خود کو دیکھ رہا
وہ آپ تماشہ عشق کا اور آپ تماشائی
خود اپنا جلوہ آپ تھا خود اپنی پذیرائی
بس خواہش اور دو نین تھے اور خواہش تھی پہچان
پہچان ہی سب تخلیق ہے پہچان کیا ایمان
بے چہرہ ، چہرہ اوڑھ کے ہوا اپنا عاشق آپ
اور خاک نے بازی جیت لی جب پایا عشق کا تاپ
یہ تاپ بہت انمول ہے اس تاپ میں کل اسرار
اس تاپ میں ہی انکار ہیں اس تاپ میں ہی اقرار
یہ درد دھوئیں کا تاپ ہے جسے تاپیں خاص الخاص
یہ آگ سنہری آگ ہے اس آگ کا ایندھن آس
یہ علم نہیں تدریس ہو یہ بات نہ کوئی بول
یہ بار نہیں اوزان کا جو کرے ترازو تول
یہ کفر نہ کوئی کافری مسلم نہ کوئی اسلام
یہ چار کتابوں میں نہیں کیا ملاں پنڈت رام
یہ ادب آداب کا کھیل ہے بے ادبے ہیں ناکام
یہ خاموشی ہے عشق ہے دل سے دل کو پیغام
یہ ساری من کی حاضری پھر کیا اونچی آواز
یہ مالا ہے اک سانس کی کیا لکڑی کیسا ساز
وہ دیکھو وہ ہے سامنے گر دیکھ سکو تو آؤ
وہ بیٹھا ہنستا بولتا اور لہجے میں ٹھہراؤ
اس وہ کی رمز عجیب ہے یہ وہ جب ہووے ھو
یہ ب سے الف کا وصل ہے ھو ھو سے ھو باھو

کیفیات

مرے سچے سائیں سوہنیا مری انگلی ٹوٹ گئی
مرا چاند کہیں پر کھو گیا مری تتلی روٹھ گئی
میں دھرتی کا ہوں لاڈلا مرے لاڈ اٹھائیں یار
مری آنکھیں صورت یار کی مری پلک پلک دیدار
مرا ماتھا روشن ہوگیا ترے پاؤں پہ جب رکھا
میں پورا میٹھا ہوگیا ترے ہاتھ کو جب چکھا
تجھ حسن پہ سب قربان ہیں کیا غوث قطب ابدال
تجھ لہجے کا ہی دان ہیں مرے شعر مرے اقوال
میں سوچوں تیری سوچ کو مرا قال ہے تیرا قال
میں چال چلوں تجھ چال سی مرا حال ہے تیرا حال
میں شعر شعور کا روگ ہوں میں دھرتی کا ہوں سوگ
میں بوٹی ہندوستان کی مرا عشق ہے تیرا جوگ
میں جوگی سادھو پریت کا مرے کان میں بالا ہے
میں اندھا تیرے پریم میں تو دیکھنے والا ہے
میں راگ ہوں تیرے روگ کا مجھے گائیں خسرو جی
میں رقص ہوں تیرے ہجر کا مجھے ناچیں سب چشتی
ہمہ اوست ہے میری راگنی اور ھو ھو میرا راگ
وحدت ہے میرا آئینہ اور کثرت میرا بھاگ
میں پیر وراق کا روپ ہوں اصغر سائیں مری جان
مرے ہاتھ میں تیرا فیض ہے میں خان محمد خان
میں گہرا دریا پریم کا تو عشق سمندر ہے
میں تجھ میں تیرا ہوگیا تو میرے اندر ہے
میں بولی ہوں پنجاب کی تو میرا ڈھولا ہے
میں لفظوں میں وہ لفظ ہوں جسے تونے بولا ہے
میں ک کتابی پریم کا میں ن نمازی ہوں
میں ف ی ک کا و ہوں اس قرب پہ راضی ہوں
میں نحن اقرب سن چکا تو شہ رگ پاس گیا
شہ رگ کے قرب میں قلب ہے تری خاطر کھول دیا
میں الف الف کا بھید ہوں میں میم کا بوسہ ہوں
مجھ لب پر تیرا ذائقہ میں تیرا اپنا ہوں
میں سانپوں سے ہوں کھیلتا اور زہر کا ہوں تریاق
میں گندھا گندھایا پریم میں مرا لہجہ ہے بے باک
بالک کا پریم ہے سائیاں تجھ اندر تو اندر
من میں ہوں میں من مانتا بت میرا من مندر
میں طور جلایا جا چکا اب اُحد محبت ہوں
میں ایک صحابی عشق کا دلدار کی سنگت ہوں
تجھے دیکھوں پورے جسم سے مری لوں لوں آنکھیں ہوں
میں لکھوں بولوں اور پڑھوں سب تیری باتیں ہوں
میں آنے والا دور ہوں مرا حال گواہی ہے
میں جنگل کی وہ آگ ہوں جو تونے لگائی ہے
میں پاک نہیں ہوں چاک ہوں تطہیر کرو سائیں
میں نیند نہیں ہوں خواب ہوں تعبیر کرو سائیں
میں نغمہ پاک و ہند کا آواز مدینے کی
مری موت ہوئی ہے عشق میں میں صورت جینے کی
میں ریشم جیسا یار ہوں اور دشمن پر تلوار
ہر پیار کے بدلے پیار ہوں ہر وار کے بدلے وار
میں باھو کا ہوں لاڈلا ھو حق حق ھو حق ھو
یہ ہونا ہونی کھیل ہے بس تو بس تو بس تو
سادھو کا سادھ سرود میں اور دھیان اٹھائے تال
جوگی کا جوگ ہے جاگتا جگ بیتے گزرے سال
بالک کا سر ہے گود میں اور سائیں بنائیں بال
سائیں سر سائیں خیر ہیں سب گورکھ سب جنجال
میں ہند کی مٹی سائیاں تو عشق کا دریا ہے
مری رگ رگ تیرے بیٹ ہیں تو مجھ میں بہتا ہے
پیروں میں گھنگھرو پریم کے اور ہاتھوں میں تلوار
یہ فقر فقیری میل ہے جوں پگڑی اور دستار
دلدار سخی دلدار جی مرے پورے چاہ کرو
تصویر بناؤ اسم کی اور اپنے رنگ بھرو
ہمراز مرے ہمراز جی ترے کھولوں سارے راز
تجھ رازوں میں مرے راز ہیں آوازوں میں آواز
مرا وجد وجود میں آگیا وجدان نے شعر کہے
مرا درد درود میں ڈھل گیا ایمان نے شعر کہے
مری بانہیں نظمیں ہجر کی مری سانسیں راگ بہار
مرا ماتھا مطلع صبح کا مرے ابرو ہیں اشعار
بغداد کی جھنگی پریم کی پنجاب کا جھنگ ہوئی
میں نیلا نیلی بار کا مری روح ملنگ ہوئی

ہم لوگ

ہم لوگ مسافر لوگ ہیں کیا زور ہمارا ہے
اک گٹھڑی جس میں درد ہیں اور عشق سہارا ہے
ہم بوجھ نہیں وہ بوجھ ہے جو آپ اٹھایا تھا
ہم پریم نہیں وہ پریم ہے جو آپ کمایا تھا
ہم تارے گنتے رات کو اور دن میں تاپیں دھوپ
ہم کالے گورے رنگ کے اک روپ کا ہیں بہروپ
ہم مشرق مغرب کے نہیں اب بھول چکے طرفین
ہم عین اور غین سے ماورا بس دیکھ رہے دو نین
ہر لفظ میں صورت یار کی ہر آنکھ میں اس کا پیار
ہر خواب میں نشہ وصل کا ہر پلک پلک دیدار
ہم جاگے آدھی رات میں اور پورا عشق کیا
جب پیاس لگی تو کھا لیا جب بھول لگی تو پیا
ہم خادم اپنے پیر کے ہم کہلائیں سلطان
یہ جلوے کوئی اور ہیں تم سمجھے ہو انسان

ابیات

من پھیکا اور تن پھیلتا تم سانپوں جیسے ہو
اپنوں کی خاطر زہر ہو اپنوں کو ڈستے ہو
تم ٹکڑا مار فقیر ہو دراصل بھکاری ہو
دنیا کو چومتے چاٹتے بس دنیا داری ہو
تم شور مچاؤ عشق کا اور شاعر کہلاؤ
تم بے مستے یاں مست ہو بس ناچو اور گاؤ
تم عزت اپنی بیچ کے یہاں بنے ہوئے پردھان
تم غیرت غارت کر چکے اور بھول چکے ایمان