ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Maen Kahin Aur Ja Nahin Sakta | میں کہیں اور جا نہیں سکتا
Nazmen - نظمیں

چرخہ

ہمارا مذہب تو عشق ہے
جس کی اِبتدا بھی اور انتہا بھی
کسی بھی ان دیکھے واقعے سے جُڑی ہوئی ہے
یہ جسم کیا ہے یہ جان کیا ہے
یہ زندگی کا نشان کیا ہے ؟
یہ کون شب بھر نظامِ خوابِ وصال ہم میں چلا رہا ہے ؟
یہ کون جسموں کی روئی چرخے پہ کاتتا ہے ؟
تمہارا دُکھ ہے
تمہارا دکھ بھی عجیب دکھ ہے
ہمارے جسموںمیں دھڑکنوں کے رِدھم پہ دھمّال ڈالتا ہے
ہماری مٹی اُڑا رہا ہے
ہمارا کیا ہے
ہمیں تو چرخے کے چکروں میں کسی نے الجھا دیاہے ایسے
کہ ریت تھل کی ہمارے زخموں کے راستے سے
ہمارے ذہنوں میں آگئی ہے
فرید سائیں سنبھالے رکھنا
کہ ہم ابھی تھل سے آشنا بھی نہیں ہوئے ہیں
اور عشق چرخے کے چکروں میں
ہمارے جسموں کے سارے دھاگے الجھ چکے ہیں