ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Haal | حال
Nazmen - نظمیں

امن کی آخری نظم

سنو عزیزو !
میں امن کے آخری دنوں میں یہ کہہ رہا ہوں
کہ ہم محبت کے نام پر دھوکہ کھا چکے ہیں
جنابِ عیسیٰ بھی کہہ رہے ہیں
کہ اب تو بھیڑیں بھی بھیڑیوں کا لباس پہنے
جنابِ آدم کے خانوادے میں آ گھسی ہیں
اگر کھلی آنکھوں دیکھ پائو تو جان لو گے
کہ مادیت کے جنوں کی وردی پہن کے
    حرص و ہوس کے مارے
خدا کے تنخواہ دار بندے
ہماری دنیا کو لوٹتے ہیں
جنابِ موسیٰ بتا رہے ہیں
جو غرقِ دریا ہوا تھا لشکر وہ اجرتی تھا
سنو عزیزو !
یہ مادیت کے جنوں کے جنگی خدا کی مخلوق مارتے ہیں
ہم ایک ملت کے پاسباں ہیں
ہمارے چہرے بھی ایک جیسے کہ ہم محبت کے ترجماں ہیں
ہماری اجرت کوئی نہیں ہے
کہ ہم محبت کا درس دیتے ہوئے محمد
کہ ہم محبت کے نام پر بکنے والے یوسف
سنو محبت کا درس دیتے ہوئے عزیزو !
فقط محبت کے زور پر کاروبارِ دنیا نہیں چلے گا
یہ آخری وقت کی صدا ہے
وہ آخری جنگ آرہی ہے جو فرض ہے
محبتوں کے پیامبروں پہ جو قرض ہے
سو فرض اجرت طلب نہیں ہے
سنو عزیزو تم اپنی اجرت طلب نہ کرنا