ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Haal | حال
Mazamin - مضامین

سلسلے کا سنہری چراغ

گذشتہ دو دہائیوں سے ہماری شاعری میں عشق کا لفظ بہت استعمال ہو رہا ہے اس کا مقصد عشق کرنا یا اس کا اظہار کرنا نہیں بلکہ اس لفظ کی تکرار ہے ، اپنے آپ کو قیس و فرہاد کا ہم پلہ ثابت کرنا ہے ، یہ شاعرانہ تعلی نہیں بلکہ تکبر کی کوئی قسم ہے ، اس روّیے سے میں سوچنے پر مجبور ہوا کہ آخر عشق ہوتا کیا ہے ؟ بہت سوچ بچار کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ عشق ہوتا ہے مگر سب کو نہیں ہوتا یہ ہما کسی کسی کے سر پر سایہ کرتا ہے اور اسے سجادہ نشین قیس بناتا ہے زیادہ تر لوگوں کو عشق کا وہم ہوتا ہے ، وہم کا اعتبار کر کے اسے عشق کے درجے پر فائز کیا جا سکتا ہے لیکن اکثر لوگ وہم سے آگے نہیں بڑھ پاتے یہی وجہ ہے کہ انہیں عشق کا وہم زندگی میں بار بار ہوتا ہے آج وہ کسی کے لیے تڑپ رہے ہوتے ہیں اور کل کسی اور کے لیے دل فرشِ راہ کیے بیٹھے ہوتے ہیں ، میں جب ندیم بھابھہ  کے پہلے شعری مجموعے میں کہیں جا نہیں سکتا کا دیباچہ تحریر کر رہا تھا تو میں نے اس کی شاعری کی اساس محبت کو قرار دیا تھا ، مجھے یقین تھا کہ یہ محبت وہم نہیں ہے اور یہ یقین مجھے اس کی شاعری کے نمایاں سُر یعنی اداسی اور تنہائی نے دلایا تھا ۔ اس کا صاحب حیثیت ہوکر اداسی اور تنہائی کا راگ الاپنا اس بات کا غمّاز تھا کہ اس کی منزل یہ نہیں جسے وہ حاصل کر چکا ہے ، جب اس نے اپنی محبت سے گھر آباد کرلیا اور اس کی محبت نے دو بچوں کو جنم دیا تو یار لوگ اس کی شاعری کے خاتمے کا اعلان کرتے پھر رہے تھے لیکن مجھے لگتا تھا کہ ندیم بھابھہ  کی یہ منزل نہیں بلکہ پڑائو ہے یعنی آگے چلیں گے دم لے کر ۔۔۔ اس کا دوسرا مجموعہ تمہارے ساتھ رہنا ہے شائع ہوا تو اس کا بنیادی سُر بھی اداسی اور تنہائی تھا ، یہ اداسی اسے بہت چمک دار شعر دے رہی تھی اور وہ ایک مستی کے عالم کی طرف رواں دواں دکھائی دینے لگا ، اس دوران میں اس کو وحشت نے بھی آن لیا ، وحشت نے سب کچھ توڑ دیا اس کے ہاتھوں اس کے دوست بھی شکست سے دوچار کرا دیے ، جذبہ بے اختیار شوق شمشیرِ بے نیام کی طرح اپنے پرائے کی پرواہ کیے بغیر بروئے کار رہا ۔ لیکن وہ جو اداسی تھی وہ جو تنہائی تھی وہ توڑ پھوڑ میں اپنا علاج نہیں چاہتی تھی ، اس نے اپنے پہلے مجموعوں میں یہ اشارے جگہ جگہ دے دیے تھے روہی پیر فرید کی نظم نے بتا دیا تھا کہ اس کی شاعری میں خالد احمد کی نظم مادھو لعل حسین سے جاگ لگ گئی ہے اب یہ شاعر وحشت سے نکل کر روحانیت کے جہان میں داخل ہونے والا ہے اور ایک صبح وہ حلقہ باھوؒ کا حلقہ نشین ہو گیا ۔ اردو ادب کی تاریخ میں صوفیانہ شاعری کرنے والے دو طرح کے شاعر ہیں ایک وہ جنہوں نے تصوف کر پڑھا ہے اس قبیلے کے سرخیل مرزا نوشہ ہیں اور دوسری قسم کے وہ شعرا ہیں جنہوں نے تصوف کو پڑھ کر مرشد کے ہاتھوں پر بیعت کی ہے اور ہدایت کے مطابق صوفیانہ مدارج طے کیے ہیں ، ہمارے عہد میں بھی دونوں طرح کے شعرا موجود ہیں ، پہلی قسم کے شعرا نے اپنی غزل کے باطن کا تزکیہ کرنے کی بجائے اس کے ظاہر پر صوفی ازم کی تہہ چڑھائی ہے اور خود کو صوفی ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے ، غالب کے  رستے پر ہی چل پڑتے اور مسائل تصوف کو غزل کے پیرائے میں بیان کرتے تو شاید بات بن جاتی لیکن انہوں نے صوفی ازم کے نام پر گمراہی کو فروغ دیا ، میں ندیم بھابھہ  کو دوسری قسم کے شعرا میں شمار کرتا ہوں اس نے سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ کے حجرہ نشین حضرت سلطان محمد علی کے دستِ مبارک پر بیعت کی اور ان کے بتائے ہوئے اذکار و تسبیح کرنے لگا ، اس نے اپنے خمیر سے ایک اور ندیم بھابھہ  دریافت کیا ، یہ ندیم بھابھہ  دل کی واردات میں پور پور بھیگا ہوا ہے لیکن یہاں چلتے چلتے میں ایک غلط فہمی دور کرنا بہت ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ خانقاہی نظام نے عمومی طور پر بے عملی کے فلسفے کو فروغ دیا ہے لیکن حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی ؒکا سلسلہ قادریہ سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ سے ہوتا ہوا جب اقبالؒ اور آج کے شعرا تک پہنچتا ہے تو اس میں لاتخف کی تعلیم نے ایک عجب تحرک پیدا کر دیا ہے اس سلسلے کے لوگ خانقاہوں میں چلہ کشی ہی نہیں کرتے بلکہ میدانِ عمل میں اپنے ہونے کا ثبوت بھی دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ سلطان احمد علی کی صورت میں ایک عالم باعمل اقبالؒ کی تعلیمات کے ساتھ اصلاح احوال کی مجالس بپا کرتے ہیں ، ندیم بھابھہ  کے پہلے دونوں مجموعوں سے لگتا ہے کہ لاتخف اور تیقن اس کے مزاج میں پہلے سے موجود تھے ، یہی وجہ ہے کہ خدا نے اسے اس سلسلے کی طرف بھیجا ، وہ گھر سے تشکیک نہیں بلکہ یقین لے کر آیا ہے ، اس کے لہجے کی قطعیت نے صوفیانہ خیالات کو عجیب ترنگ میں بیان کیا ہے جیسے ابتدا میں خالد احمد کی نظم نے اسے ایک اور دنیا کا رستہ دکھایا اور اس کے بعد اس کے سامنے اقبالؒ جیسا رہنما تھا ، یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ اقبال کو آئیڈئلائز کریں اور اس کے اثرات سے بچ جائیں ، میرا خیال ہے اگر ندیم بھابھہ  اس ڈگر پر چلتا رہا اور جس کا قوی امکان ہے تو وہ اقبالؒ کی روایت سے استفادہ کر کے اپنی الگ پہچان بنانے والا پہلا بڑا شاعر ہوگا ۔ یہ بات میں اس دلیل کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ اب تک شعرا نے اقبالؒ کے شکوہ سے مرعوب ہوکر شاعری کی اور اقبالؒ کی بازگشت بن کر رہ گئے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اگر کوئی اچھا شعر بھی کہا تو وہ اقبالؒ کے کھاتے میں چلا گیا ، تندی باد مخالف سے نہ گھبرا ائے عقاب والا شعر اس کی عمدہ مثال ہے لیکن ندیم بھابھہ  سے اس لیے توقع ہے کہ ادھر صوفیانہ تجربے کے ساتھ آیا ہے وہ اقبالؒ کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے اور اس سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے  راستے پر چل دے گا ، میرا جی تو چاہتا تھا کہ میں ندیم بھابھہ  کے شعری سفر کے خدوخال مثالوں واضح کروں لیکن طوالت سے بچنے کے لیے میں نے میں کہیں جا نہیں سکتا اور تمہارے ساتھ رہنا ہے سے منتخب اشعار یہاں درج نہیں کیے ، آپ جب خود اس مجموعے میں پہلے مجموعوں کو دیکھیں گے اور تازہ کلام کی طرف جائیں گے تو میرا مقدمہ آپ پر واضح ہوجائے گا ، میں نے ابتدا میں گزارش کی تھی کہ ندیم بھابھہ  نے عشق کیا ہے اسے مجاز سے حقیقت تک اور پھر حقیقت سے لباسِ مجاز میں بیان کرنا تک برتا ہے کہیں کہیں وہ ادق ہوگیا ہے شاید صوفیانہ تجربہ مکمل طور پر اس کی گرفت میں نہیں آیا لیکن اکثر مقامات پر وہ کامیاب ہوا ہے اور اس نے ایک ایسا صوفیانہ لہجہ دریافت کیا ہے جس کی نقالی تو آپ کو مل جائے گی لیکن اس کی مثال ملنا مشکل ہے یہ سروری قادری شعر کو دعا مانگنے کا عمل سمجھتا ہے ، دعائیں مانگی ہیں میں نے تو شاعری نہیں کی ، ربِ اظہار کے ہاں دعا مانگنے والا کبھی خالی ہاتھ نہیں جاتا ، اسے بچشمِ مرشد لوحِ محفوظ پر لکھا ہوا تعلیم کردیا جاتا ہے ، ندیم بھابھہ  جب اس سلسلے سے فیض یاب ہوتا ہے تو اس کے لہجے کی سرشاری اس کے ایک ایک مصرعے سے ٹپکتی ہے

مرا حُسن مکمل ہوگیا میں اتنا کھویا عشق میں
عشق ہے دل کی واردات ، عقل ہے کیفیت کا نام
عشق ہے کیفیت سے پاک ، ہم نے یہ آزما لیا

خدا کی راہ میں آکر تو لاتخف ہوجا
کہ سرجھکانے سے بہتر ہے سر بکف ہوجا
    میرے خیال میں اپنے ہم عمر اور ہم عصر گروہ میں ندیم بھابھہ  واحد عاشق اور صوفی شاعر ہے جو عشق کا ڈھنڈورا پیٹنے کی بجائے عشق کی سلامتی چاہتا ہے اور یہاں وہ اپنے دادا مرشد سلطان باھوؒ کا ہم آواز ہوجاتا ہے
سب نے اپنی سلامتی مانگی
میں پکارا کہ ائے خدا مرا عشق
    چلتے چلتے کچھ اشعار اور ملاحظہ فرمائیں ، یہ صوفیانہ خیالات ہیں لیکن سطح پر تیرتے نظر نہیں آتے بلکہ حرف و بیان کے رچاؤ کے ساتھ اثر پذیر ہوتے ہیں ۔
آنکھ اُٹھا کر تجھے دیکھا نہ پکارا میں نے
ہجر کی طرح ترا وصل گزارا میں نے
ایک مانوس سی آواز نے تھاما مجھ کو
خود کو اک بار محبت سے پکارا میں نے

شاہزادے تجھے مبارک ہو
تیری قسمت میں بادشاہی نہیں
کس لیے ہوکے ہم دکھائیں تجھے
جبکہ ہونے کا فائیدہ ہی نہیں

ہمارے ہاتھ پہ جلتا ہے اک سنہری چراغ
ہوائے سرخ ہماری عدو سنبھل کر ہو
    ندیم بھابھہ  کے دستِ ہنر پہ سلسلہ قادریہ کا سنہری چراغ روشن ہے مجھے امید ہے کہ وہ زندگی اور زندگی کے بعد کا سفر اسی چراغ کی روشنی میں طے کرے گا ۔
عباس تابش