ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Haal | حال
Mazamin - مضامین

ندیم بھابھہ اور میں

قذافی سٹیدیم میں پنجابی کمپلیکس میں باھو ؒ سیمینار اپنے اختتام کو پہنچا ، میں ھو کی گونج سے باہر نکلا تو کسی نے مجھ کو بازو سے پکڑ کر کہا کہ آپ کو بھابھہ صاحب بلا رہے ہیں اور میں بے خیالی میں اپنے دوستوں کو چھوڑ کر پتہ نہیں کیوں اُس شخص کے پیچھے پیچھے قبر کی سیڑھیاں اُترتا چلا گیا اُس نے میرے لیے ایک لینڈ کروزر کا مقبرہ کھولامیں صدیوں پرانی ٹھنڈک کے اندر جا بیٹھا ، ڈرائیونگ سیٹ پر پہلے سے بیٹھے ہوئے جوان کو میں ایک ایسے شاعر کی حیثیت سے جانتا تھا جوکسی وزیر کا بھائی تھا ، میں نے لمحہ بھر سوچا کہ میں اِس مردہ خانے میں کیوں آگیا ہوں مگر اُس جوان نے کسی زندہ آدمی کی طرح مجھے بڑی محبت سے کہا کہ آپ سے ایک گزارش کرنی تھی آپ جو حضرت سلطان باھو ؒ کے مزار پر دعوت پڑھنے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ دعوت آپ نے نہیں پڑھنی ، میں نے حیرت سے پوچھا آپ کا اِن معاملاتِ تصوف سے کیا تعلق ہے ؟ تو کہنے لگا میں ابھی ابھی پانچ سال مجلسِ باھو ؒ میں گزار کر آرہا ہوں ، قصہ کچھ یوں ہے کہ میں نے بھی پاکستان آنے سے پہلے برطانیہ کے ایک چھوٹے سے شہر ڈڈلی میں کئی ماہ سلطان باھو ؒ کے ساتھ گزارےتھے ، کچھ اُنہوں نے سمجھایا تھا کچھ میں نے سمجھا تھا ، بہر حال میں نے اُ ن کی کئی فارسی زبان میں لکھی کتابوں کا اُردو زبان میں ترجمہ کیا ہے جن میں انہوں نے بڑی تفصیل کے ساتھ کشف القبور کا ذکر کیا ہے جسے میں نے بڑی دلچسپی سے پڑھا تھا اور خاص طور پر دعوت پڑھنے کا عمل سیکھنے کی کوشش کی تھی ، قبر پر سوار ہوکر دعوت پڑھنا دراصل صاحبِ مزار سے گفتگو کرنے کا ایک عمل ہے ، میں نے برطانیہ سے پاکستان آتے ہوئے یہ سوچ رکھا تھا کہ سلطان باھو ؒ کے مزار پر دعوت پڑھنی ہے یعنی اُن کے مزار پر بیٹھ کر اُن سے ہمکلام ہونا ہے اور اِس سلسلے میں محکمہ اوقاف کے اعلیٰ افسران سے کہہ کر تنہائی میں رات کو قبر پر بیٹھنے کا بھی پورا بندوبست کرلیا تھا پر مجھے روک دیا گیا ، روکنے والے دوست نے مگر مجھے ایک ندیم عطا کر دیا ایک ایسا ندیم جس سے بوئے دوست آرہی تھی سو میں سب کچھ اور رات دیر تک ندیم بھابھہ کے ساتھ رہا ، راز و نیاز کی باتیں ہوتی رہیں ، باھو ؒ سے یاھو تک پھیلی مسافتیں مختصر ہوتی رہیں ، نور سے پُربے کرانی میں اسم اللہ کے تصور کی حیرتوں اور تجلیات کو دیکھتے رہے ، لامکانی کے تحیر میں ذکرِ سرّی کے اسرار کھلتے رہے ، چشمِ باھو ؒ کے سکوت آور تغیر سے روشنی پھوٹتی رہی یعنی سلطان باھوؒ کے ساتھ ندیم اور میں پشت دوعالم پر پاؤں رکھ کر فلک پیمائی کرتے رہے ۔
پشتِ پازن بر دوعالم تا فلک پیما شوی
از سرا دنیائے دوں بر خیز تا رعنا شوی
    ندیم بھابھہ کی یہ شاعری اُسی صحبت رعنائی کی سرگزشت ہے میں نے تو اِس کتاب سے صرف ھو کی آواز سنی ہے اور جہاں ھو کا نغمہ گونجتا ہے وہاں ہوا کا کوئی سانس مردہ نہیں ہوسکتا ، وہاں موت کا اطلاق بھلا کیسے ہو جہاں دل کی دھڑکن تال ہو ، جسم دھمال کرے ، جہاں سائیں سکھائے بولنا ، سائیں کلام کرے ، جہاں سادھو نے چپ سادھ لی ایک فقیر کے سنگ ۔
    ندیم بھابھہ کی شاعری کے دو موسم ہیں ، ایک تعلق باھوؒ سے پہلے کی بہار ہے اور ایک وصالِ باھوؒ کے بعد کا چیتر ہے ، پھول دونوں گلستانوں میں مہک رہے ہیں ، شادابیاں دونوں زمینوں پر پھیلی ہوئی ہیں مگر سب سے عجیب بات یہ ہے کہ باھوؒ کی جلترنگ سے پہلے بھی ندیم بھابھہ کی شاعری میں یا ھو کا الاپ موجود ہے ، یعنی اُسے بہت پہلے چن لیا گیا تھا وہ کسی کی نگاہ میں بہت پہلے آچکا تھا اُسے بہت پہلے کسی کی دعا لگ چکی تھی ورنہ اُسے یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی
تنہائی اس قدر ہے کہ عادت سی ہو گئی
ہر وقت کہتے رہنا ہمارا کوئی تو ہو
کمرے میں آج میرے علاوہ کوئی نہیں
کمرے میں آج میرے علاوہ کوئی تو ہو
اب جب اُس کے کمرہ جاں میں کوئی آیاتو وہ پکار اُٹھاکہ میرے آنسو میٹھے ہو گئے میں اتنا رویا عشق میں۔
دل صورت ہے اب یار کی ، اور جسم پرویا عشق میں
مرا حُسن مکمل ہوگیا میں اتنا کھویا عشق میں
میں پاپی کوڑھی عشق کا میں کمی اپنے یار کا
مری ساری میل اُتار دی سرکار نے دھویا عشق میں
    ندیم بھابھہ سے میں پھر کبھی نہیں ملا ۔ فون پر کبھی بات ہوگئی یا کسی ڈاٹ کام پر ذرا سی دیر کے لیے ہمکلام ہو لیا کہیں کسی لفظ سے اُس کے احوال پوچھ لیے مگر یہ نام میرے وجود میں دھڑکتا رہا کسی کپکپاتی ہوئی یاد کی طرح ، کبھی اِس بات کا احساس ہی نہیں ہوا کہ ہم دونوں کے بیچ سات سمندر رکھ دیے گئے ہیں ، پانچ ہزار کوس کی مسافت درج کر دی گئی ہے ، واقع روح کی کائنات میں زمان و مکان کے فاصلے کوئی حیثیت نہیں رکھتے کبھی خیال ہی نہیں آتا کہ
گریز کرتی ہوئی خلق سے ذرا ہٹ کے
کلام کرتی ہوئی کھڑکیاں ہی دیکھ آئیں
کیونکہ کلام کرتی ہوئی یہ کھڑکیاں تو اب کہیں اپنے سینہ فگار میں کھلی ہوئی ہیں اب میں میں نہیں وہ ہے اور وہ ، وہ نہیں میں ہوںہر لمحے یوں گماں ہوتا ہے جیسے
اُس کی باتیں اس کا لہجہ اور میں ہوں
نظم پڑی ہے مصرع مصرع اور میں ہوں
    روح کا تعلق بھی ندیم بھابھہ  کی نظم جیسا ہے ، بس اتنا فرق ہے کہ یہاں کبھی پہلا مصرع آخری اور آخری مصرع پہلا بن جاتا ہے ، میری روح کا مصرع بھی کہیں ندیم بھابھہ کی نظم در آیا ہے ، روشنی روشنی سے ملی اور آنکھیں چندھیا گئی ہیں ، آئینے کے سامنے آئینہ رکھ دیا گیا ہے اور اب میں اُس منزل پر ہوں جہاں ندیم بھابھہ کا یہ شعر میری آواز بن چکا ہے
اب یہ تجھ پر محبت میں ہمیں جیسے گزار
ورنہ ہم لوگ تو مرضی سے جیا کرتے تھے
    یہ جو رقیبوں والی محبت ہے اِس کی خبر عام لوگ نہیں رکھتے ، شیخ فخرالدین عراقی نے کہا تھا
عجب عشقے کہ در راہِ طریقت
رقیبت شد عزیز ہمچو رفیقت
ترجمہ : عجیب عشق ہے کہ طریقت کے رستے میں تیرے رقیب بھی تجھے تیرے رفیق کی طرح عزیز ہوگئے
یا پھر بقول فیض
تونے دیکھی ہے وہ پیشانی وہ رخسار وہ ہونٹ
زندگی جس کے تصور میں لٹا دی ہم نے
    عشقِ باھوؒ کی کرشمہ سازی یہ ہے کہ ندیم نے سلطان باھوؒ سے عشق کیا اور منصور آفاق اس پر قربان ہوگیااور اب تو خود ندیم بھابھہ کے الفاط میں اپنی یہ حالت ہے کہ
خامشی ہم پہ گری آخری مٹی کی طرح
ایسے چپ ہیں کہ ہر اک بات سے نکلے ہوئے ہیں
    میں ندیم کے ساتھ چل رہا ہوں مصرع مصرع پاؤں اُٹھاتا ہوں ، نظم نظم قدم رکھتا ہوں مطلع سے اپنا جنوں شروع ہوتا ہے اور مقطع تک پہنچتے ہیں تو قیامت آجاتی ہے ، جب میں نے
ندیم بھابھہ کے ساتھ سفر کا آغاز کیا تھا تو اُس نے کہا تھا۔
تجھے بتاؤں مسافر جنوں کے رستے میں
جہاں قیام ہوا بس وہاں قیامت ہے
    باھوؒ کی مریدی میں جنون کے راستے پر چلنے والاندیم بھابھہ کے عشقِ بلاخیز کا قافلہ سخت جاں کونسی وادی میں ہے کون سی منزل پر ہے اس کا اندازہ حال کی شاعری سے لگایا جا سکتا ہے۔
منصور آفاق