ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Haal | حال
Mazamin - مضامین

ندیم اور عشق

تم نے دیکھی ہے کبھی
ہجر کے مست قلندر کی دھمال
پاؤں پتھر پہ بھی پڑ جائیں تو دھول اڑنے لگے

سنہری سانولی رنگت اور سروری قادری چال میں ڈھلا یہ شاعر اپنے ہونے کی مہر دلوں پر لگا کر چُپ چاپ سادھو بنا بیٹھا ہے۔ دور دراز کے سفر سے پلٹا ہُوا، ہجر کی تھکن سے لبریز لہجہ جب سماعتوں کے بند طاقچوں سے ٹکراتا ہے تو دھڑکنوں کا رُک جانا لازمی سا ہو جاتا ہے۔

یہ "حال" اُس سر مستی کی دھمال ہے جس میں بے سُدھ ہو کر آنسوؤں کی نمکینی زبان کو کسی شیرینی کا ذائقہ عطا کرتی ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو خاص ندیم بھابھہ کا ہے۔ اس راستے میں بولتی ، عشق کی مٹی سے گندھی پگڈنڈیاں اک عجب اداسی بھری مہک سے لبریز ہیں۔ اُداسی بھری یہ مہک سانسوں میں اُتر کر روح کو معطر بھی رکھتی ہے اور بے چین بھی۔ یہ بے چینی خاص عشق کی مرہونِ منت ہے جو اَن چھوئی سمتوں سے ٹپ ٹپ دل کے کٹورے میں کسی من و سلوی کی مانند ٹپکتی رہتی ہے، کسی گھنیرے دور دراز کے کونے میں، اندر ہی اندر رستی رہتی ہے۔ لیکن پھر بھی یہ شاعر مست ہے، مگن ہے کہ اس کے دل پر عشق کی تسلی نازل ہے۔

سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ یہ شاعر ہے یا شہرِ عشق کا فقیر، جس کا کاسئہ طلب فقط اُمیدِ یار سے بھرا ہے۔ اُمید جو سر سبز رُتوں کی روح، عشق کی ہم نوا صرف اس بدولت ہے کہ اسے ندیم بھابھہ کی سانسوں میں قیام ہے۔

ندیم کے گرد ایک حصار ہے، نور بھرا حصار، ایک پہرہ ہے، ان چھوئی دعا بھری آنکھوں کا پہرہ اور ندیم اس نور بھرے پہرے میں گھونٹ گھونٹ عشق اپنے انرر اُنڈیل کر اسے جیتا ہے اور اپنا "حال" کرتا ہے۔ میں نے کوشش کی کہ مجھے کوئی تو ایک شعر یا پھر کوئی ایسا مصرعہ مل جائے جو عشق کے احاطے سے باہر ہو مگر ایسا ہُوا نہیں اور اگر ایسا ہو جاتا تو مجھے عشق کے کامل ہونے پر گمان رہتا۔

کبھی شام سمے آسمان پر اُڑتے پرندوں کے ڈار پر ایک نظر کریں تو اُن میں اکثر اوقات ایک پرندہ ایسا ہوتا ہے جو سب سے الگ تھلگ، اپنے حال میں مست اُس ڈار کا حصہ ہوتے ہوئے بھی اُس سے جدا ہوتا ہے۔ وہ اس غرض سے پاک ہوتا ہے کہ کون اُس سے آگے نکل گیا اور وہ کس سے پیچھے رہ گیا۔ ندیم وہی پرندہ ہے، اپنی سروری قادری چال میں مست ہے، چُپ ہے کہ یہی اُسے زیب دیتا ہے۔

وہ اپنے فسوں بھرے لہجے میں کہتا بھی ہے تو یہی کہتا ہے
جہاں پر تم نے چھوڑا تھا
وہیں موجود ہوں
شاید بہت محدود ہوں

کسی کے اندر کے اصل کا بھید اُسی طرح آپ پر اُترے تو لمحے کے کسی ہزارویں حصے میں دل اک عجب پاتال میں ڈوپ کر اُبھرتا ہے۔

ندیم کی شاعری کوئی سامنے کی شاعری نہیں ہے۔ ان کی شاعری کے منظر نہایت کامل منظر ہیں۔ یہ گواہی مشکل ہے کہ یہ منظر سب پر کُھلتے ہیں یا نہیں۔ یہ الوہی کیفیت سے بھرا، عام سمجھ سے بالا تر اُس جذبے کا ورد ہے جو سانسوں سے بے اختیار یہ کہلواتا ہے
پہلے میں نور سے ہُوا واقف
اور پھر مجھ پہ کُھل گیا مرا عشق

ندیم پر زندگی کُھلی ہوئی ہے کہ یہ اپنی مشکل پسندی میں بھی سمجھوتہ کرنا جانتا ہے، اسے دکھ نبھانے آتے ہیں۔
ان کے ہاں کسی دکھ کے باعث اُس چوکھٹ پر ماتھا ٹیکنا سرا سر لالچ ہے، انہیں تو "الف لام میم" کا عشق خود بخود اپنے حصار میں لے لیتا ہے اور حصار بھی اُس اسمِ اعظم سے جڑا ہُوا جہاں پر صرف "وہ" ہے اور کچھ بھی نہیں ہے۔ جہاں ہر منظر اُسی سے بھرا ہُوا ہے، جہاں ہر سانس اُسی کا ورد کرتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ عشق اُس پیرِ کامل کا عشق ہے جس نے زندگی سکھائ، بندگی سکھائی۔ یہ عشق حاصل کے لالچ سے باہر کا ہے، اسے پانے سے غرض ہی نہیں ہے۔ یہ تو بس "اُس" کا ہو جانا چاہتا ہے اور بے اختیار کہتا ہے کہ
تم الف لام میم میں ڈھونڈو
انہی حرفوں میں ہے چُھپا مرا عشق

آنکھوں میں ایک مسافت کی گرد لپیٹے ہوئے، ہجر کو سانس بھر کے فاصلے پر روکے ہوئے، مکمل جذب کے ساتھ اقرار کی مٹی اپنی وجود پر لپیٹ کر کہتا ہے
ہمارے واسطے بس عشق ہے، اور عشق کافی ہے
ہمارے ہاتھ کو تھامو، ہمارا ہاتھ شافی ہے

ندیم ہجرجی سکتا ہے کہ یہ اس کا وصف ہے جو اس سے کہتا ہے
چراغِ وصل تری لو سے کوئی کام نہیں
کہ میرا ہجر مرا تخت ہے حکومت ہے

وہ پھر کہتا ہے
کہ زندہ رہنے کی خاطر
بہت سی خواہشوں کے ساتھ دھوکہ کرنا پڑتا ہے
کبھی مرنے سے بھی پہلے اچانک مرنا مڑتا ہے

جب ہجرت کی سرگوشیاں پاؤں کے رُو برو ہوتی ہیں تو ایک تھکی ہاری شام دل کے دیواروں سے لپٹ جاتی ہے اور پھر اُداسی بڑھنے لگتی ہے اور جب اُداسی روز بڑھتی ہے تو لاشعوری طور پر ایک ضد بھرا اقرار جنم لیتا ہے
میں اس جگہ سے کہیں اور جا نہیں سکتا
بندھا ہُوا ہوں مکمل کسی کے وعدے سے

ہم عشق اسیری میں کسی دل سے بندھے ہیں
پاؤں میں ہمارے کوئی زنجیر نہیں ہے

عجب قصہ ہے کسی کو کھونے کے ڈر سے خواہش کو کُچل دینا، اور وجود کو انکار کی تمثیل بنا لینا مگر نظم
" کبھی تم سامنے آؤ"
میں یہ قصہ بولتا نظر آتا ہے کہ ہاں یہ ممکنات کا ہی حصہ ہے۔

عشق تو بذاتِ خود کامل ٹھہرا، میں سوچ میں ہوں کہ اتنا جامع اور مکمل عشق کوئی کیسے نبھا سکتا ہے۔ ندیم کی کیفیت ایک کامل کیفیت ہے، وہ عشق کی بات نہیں کرتا ہے وہ احساس کے پورے جذب کے ساتھ، بھر پور شدت کے ساتھ عشق جیتا ہے۔ ان کا ہر ایک مصرعہ گواہی دیتا ہے کہ میری تخلیق اسی سانولے کے ہاتھوں اُس محبوب کی خاطر ہوئی ہے جو میرا نہیں بھی ہُوا تو کیا ہُوا۔ وہ تو پھر بھی یہ کہتا ہے

مرے عشق دعائیں لیتا جا
مرے ہاتھوں نے تجھے تھاما تھا
یہ ہاتھ بدن سے کاٹ لے تُو
مری آنکھوں نے تجھے دیکھا تھا
یہ آنکھیں نوچ لے چہرے سے
مری سانسوں نے تجھے چوما تھا
وہ بوسے چھین لے سانسوں سے
مرے جملے واپس کرتا جا
کوئی جان نہ لے تری باتوں سے
کبھی میں بھی تھا
مرے عشق دعائیں لیتا جا

ایک خاص تعلق کی فضا میں کفیت خود بخود بول اُٹھتی ہے
میں نے منزل کی دعا مانگی تھی
میری رفتار بڑھا دی گئی ہے

سارے چہرے ہی تیرے چہرے ہیں
تُو رہا ہے جدا جدا مرے ساتھ
یہ کیفیت بھی بڑی دھمال کیفیت ہے جب عکس خود کو ہی آئینہ کرے اور لگاتار کرے۔،

محبت میں جکڑا ہوا وجود، عشق کے ریگزار میں، بوند بوند وصل کا ورد کرتے اپنی آنکھ کی مسجد میں سجدہ ریز ایک خوابِ خاص کو اعتکاف کرتے دیکھتا ہے تو اپنے انحراف اور کسی دوسرے جہان کے اعتراف کی گواہی دیتا ہے۔ یہ سب آسانیاں ہیں جو عشق کے قلندر کو بڑی سہولت سے فراہم ہیں۔ کئی سمندر کسی ایک شعر میں موجزن نظر آتے ہیں جیسے یہ شعر
زمیں کا آخری حصہ ہے آنکھیں
جہاں انسان آ کر ڈوبتا ہے

جدائی کے لمحے میں خود کو محدود پانا اور پھر کسی کو سمجھوتے کے نئے معنی سمجھانا کہ
دل کی کتنی خواہشیں بھی تو ایک ساتھ رہ سکتی ہیں
اک گھر میں دو کمرے بھی تو ہو سکتے ہیں
اک کمرے کے دو حصے بھی تو ہو سکتے ہیں
کچھ نا ممکن ممکن بھی تو ہو سکتا ہے
جیون سے سمجھوتہ بھی تو ہو سکتا ہے

اس میں خم ہے۔ اسے جھکانے پر قدرت بھلے نہ ہو مگر یہ خود جھکنا جانتا ہے۔
کہاں نظر کی رفتار کم رکھنی ہے، کہاں آنکھ میں آنکھ ڈال کر سانس لینا ہے، یہ وصف ہر کسی کو وعید بھی نہیں ہے۔ ندیم خاص ہے جو اس کے لیے چُنا گیا ہے۔

میں لو میں لو ہوں، الاؤ میں ہوں الاؤ ندیم
سو ہر چراغ مرا اعتراف کرتا رہا

ہم اس کو رُخ سے نہیں جانتے ہیں، خوشبو سے
ہمارے سامنے اس جیسا تُو سنبھل کر ہو

چار سمتوں نے ترے ہجر کے گھنگھرو باندھے
اور ہم لوگ بھی ہیں چار، کوئی مستی ہو

عشق کے سبز اُجالوں میں گِھری ندیم کی سوچتی، حیرت بھری آنکھوں میں خواب اپنے قد سے دوگنا دکھائی دیتے ہیں۔ عجب طرز کا منگتا ہے یہ جو ہجر کو جیتا ہے اور تنہائی میں برکت مانگتا ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ ندیم کے حال سے وہ آپ پر مکمل کُھل جائے۔

یہ ہے اور بس ہے، ایک بھر پُور طریقے سے، اپنے آپ میں گم اپنی قامت کا تعین اپنے اندر چھپ کر کرتا ہے۔

وہ اپنے اندر چُھپا ہُوا ہوا ہے، اُسے اپنی قامت کا تعین کرنے کے لیے اپنے آپ میں ہی گم ہونا تھا، مگر میں شاعری میں اس کے مقام سے واقف ہوں، میری خواہش ہے کہ میں اُسے ڈھونڈ لوں جو ندیم تک رسائی پائے کہ آنکھوں میں کہیں اس سانولی عشق بھری آواز کا سایہ زندہ رہے۔

ناہید ورک

جولائی 19، 2013

میشیگن - یو ایس اے