ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Haal | حال
Mazamin - مضامین

کہے ندیم فقیر سائیں دا

اقبال کہہ گئے کہ علم کی انتہا حیرت ہے، عشق کی انتہا کیا ہے ؟ اِس بارے میں سوچنا ہی غالباً سادگی کے زمرے میں آتا ہے۔۔۔  ا ناکی انتہا کیا ہے؟ مجھ ایسے بے عمل گناہگار ذرہ کم ترین کے نزدیک ایک لا متناہی خو ف۔ لر ز اُٹھتا ہوں یہ سوچ کرکہ ندیم بھابھہ کی مسلسل پھیلتی انااسے کہاں لے جائے گی خاک کیاخاک بھر پائے گی اس بے پایاں شگاف کو، جس میں جتنی مٹی ڈالیں اس سے کئی گنا زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک تو منہ میں جاہ و حشمت کا پیدائشی چمچہ ۔۔۔اُس پرطبیعت مائل بہ تلاشِ حق، مزید بر آں انا کا حجم ایسا کہ اللہ کے سوا کس کی طاقت کہ اِسے بھر پائے اور پھر ہاتھ میں شاعری کافن۔ معاملہ نہ کسی رفیق کے ہاتھ میں، نہ کسی استاد کی قدرت میں اور نہ ہی ندیم کے اپنے بس میں ، رحم کرے تو وہ جورحیم اور کریم ہے۔
      زیرِ نظر مجموعہ کا ایک بڑا حصہ ندیم کے شائع شدہ مجموعہ ہائے کلام کے انتخاب پر مشتمل ہے سو ندیم کی شاعری کا حال  میںیکجا ہونا قارئین اورنقادوں کے لیے جو جو سہولت رکھتاہے وہ اپنی جگہ لیکن اب تک کے کل کلام کی گواہی اس کی اپنی ذات اور معافی کے لیے از حد ضروری ہے۔
    حال کی شاعری کو جو جوازقبلی مجموعہ ہائے کلام ‘‘تمہارے ساتھ رہنا ہے’’ اور ‘‘میں کہیں اور جا نہیں سکتا’’ فراہم کرتے ہیں اُن کے بغیر اُسے پڑھنا اور سمجھناعام قارئین کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ ندیم کے مجموعہ ہائے گزشتہ وہ سیاق و سباق مہیا کرتے ہیں جس کی بنیاد پر حال کی شاعری ایک تمکنت سے ایستادہ ہے ۔ جہاں حال کی شاعری اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ ندیم کے ہاتھوں سے اس کی انا نکلتی جا رہی ہے، وہیں گزشتہ شاعری اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ ندیم نے اس انا کو کچلنے کی مقدوربھر کوشش کر رکھی ہے، اب اس تماشے کا اختتام کہاں ہو یہ ندیم اور اسکے رب کے بیچ کا مسئلہ ہے، پڑھنے والے پر بہر حال یہ واضح رہنا چاہیے کہ جو شاعرکے قلب و جان پہ گزر رہا ہے وہ اختیاری یا نمائشی نہیں۔
    ندیم اب شعراء کے اُس قبیلے کا فردہے جس کے فنی محاسن پر بحث کرنا بے کار ہے۔ مندرجہ بالاتمہید کا مقصد بھی یہی تھا کہ اچھا شعرکہنے پر جو قدرت خدا نے اِس کو بخش رکھی ہے، وہ اپنی اثر انگیزی کے باعث قاری کے دل پہ وارکرے گی اور سیاق و سباق سے نا آشناقاری بے راہ ہو سکتا ہے۔
    ندیم کی نظمیںسادگی اور دل کشی کا مرقع ہیں اور یہ دل کشی ہمراہ اپنے واضح اور مروجہ پیغام کے قاری کو اپنے سحرمیں جکڑلیتی ہیں۔روہی پیر فرید کی، نسلِ نو سے، تقویم،فرض، یوم ِ اقبال پر، چرخہ اور تشبیہہ وغیرہ وہ نظمیں ہیں جنہیں پڑھ کر قاری ندیم کی ویژن پر اندھااعتماد کرنے پر مجبور ہو جائے گا اور یہی اعتباربے خبر قاری کو اِس کی غزلوں کے دام میں لا پھنسائیگا۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ندیم کے گزشتہ مجموعوں کے نام ذہن میں رکھے جائیں۔ دونوں نام اس امر کااظہاریہ ہیں کہ ندیم شروع ہی سے (شاید لاشعوری طور پر) اپنی انا کو کچلنے کی شدید تگ و دو میں مبتلا رہا ہے۔
    کہیں انانیت کی صریحاً نفی
ہارنے کے خوف سے یہ فیصلہ کرنا پڑا
جنگ سے پہلے میں سب ہتھیار دے کر آ گیا

کسی مال غنیمت کی طرح میں
ترے لشکر میں بانٹا جا رہا ہوں
 (میں کہیں اور جا نہیں سکتا)
اپنی گردن جھکا کے بات کرو
تم نکالے گئے ہو جنت سے

راستے میں کہیں پڑا ہوا ہوں
جانے تجھ سے کہاں جدا ہوا ہوں

(تمہارے ساتھ رہنا ہے)
    تو کہیں مغلوب کا شکوہ
اب یہ تجھ پر ہے محبت میں ہمیں جیسے گزار
ورنہ ہم لوگ تو مرضی سے جیا کرتے تھے
(تمہارے ساتھ رہنا ہے)
بس اتنا سوچ کر ہی مجھ کو اپنے پاس تم رکھ لو
تمہارے واسطے میں حکمرانی چھوڑ آیا ہوں
 (میں کہیں اور جا نہیں سکتا)
    اور کہیں دیوانے کی بڑ
مکمل تجھ کو بھی ہونے نہ دوں گا
تجھے لکھ کر ادھورا چھوڑنا ہے
 (میں کہیں اور جا نہیں سکتا)
میں محبت کو ابھی جنگ سمجھتا نہیں دوست
اس لیے اپنا ہی نقصان کیے جاتا ہوں
  (تمہارے ساتھ رہنا ہے)
    مگر ہر طرف انا سے فرار،شکست کو خود پر طاری کرنے کی سعی مسلسل۔ پر اِس تمام تر کوشش کے با وجوو آج اِس کی انا کا کوہ ِبلند آسمانوں کو چھورہا ہے تو اِس میں ندیم کاقصور (شاید) نہیں۔ یہیں پر ندیم کے قاری کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ شاعری ایک عاشق ِانا دار کے سفر کا بیان ہے شاہراہ ِ عام نہیں۔ جو راہ حال کی شاعر ی متعین کرتی ہے  اِس پر چلنے کو اُسی ریاضت کی رورت ہے جو ندیم کا خاصہ رہی ہے اِس کے با وجود اِس راہ میں ہر مسافراپنا الگ سفر تراشتا ہے۔
سو فرض اُجرت طلب نہیں ہے

سنو عزیزوتم اپنی اُجرت طلب نہ کرنا
    اناالحق کا نعرہ بلند کرنے سے قبل منصور ہونا پڑتا ہے، غزل کو تنگناقرار دینے سے پہلے غالب ہوناپڑتا ہے۔ میرے پاس ایسا کوئی پیمانہ نہیں کہ میں ندیم کے روحانی مرتبے یا اِس کی ریاضت پر کوئی فیصلہ صادر کر سکوں وہ آسمان سے لے کر پاتال تک کسی بھی مقام پر فائزہو سکتا ہے واللہ اعلم بالصواب، ہاں میں اِس کے لیے خوف زدہ ہوتے ہوئے دعاگو ضرور ہوں کہ وہ جو کہہ رہا ہے اِس میں اُس کی ریاضت اور تڑپ کے طفیل تائیدِ ایزدی شامل ہو۔
    ایک مثال یوں سمجھئے کہ ہر امتحان کے لیے ایک کورس متعین ہوتا ہے، کچھ طالب ِعلم امتحان پاس کرنے کے لیے پڑھتے ہیں لہذا کورس پر اپنی دسترس مضبوط رکھتے ہیں اور کچھ طالب ِعلم مضمون پہ دسترس مضبوط کرنے کوآئوٹ آف کورس چلے جاتے ہیں، یقیناً اُستاد کو وہ طالب زیادہ پیارا ہو گا جو اپنی لگن میں اُن سرحدوں کو چھوتا ہے جو درس کی قیود سے آزاد ہیں، مگر ایسا ممکن ہی نہیں کہ ایسے طالب کی گرفت کورس پر کمزور ہو۔ ریاضی کا پیچیدہ ترین کلیہ بھی دو جمع دو چار جانے بغیر ترتیب نہیں دیا جا سکتا، یہی حال انسان کی ارضی زندگی کا ہے،شریعت وہ کورس ہے جو تمام انسانوں کو امتحان پاس کرنے کا برابرموقع فراہم کرتا ہے،ایمان و اعمال کی سرحدوں سے آ گے معرفت کی دنیا آباد ہے جہاں امتحان معدوم اور تلاشِ حق معین ہے، مگرایمان و اعمال کی دنیا سے گزرے بغیر روحانیت کی دنیامحض دھوکا اورگمراہی ہے۔ فقر عین شریعت ہے اور عرفان کے دھارے اِسی منبع سے پھوٹتے ہیں۔ مگر عرفان حاصل کسی کسی کو ہی ہوتا ہے۔ ہمارے ایک دوست ایک صاحب کے فقر سے متاثر ہو کر اُن کے ہاتھ پر بیعت ہونے گئے تو اُس فقیر نے یہ کہتے ہوئے اُنہیں لوٹا دیاکہ ـ" پتر !  لکھاں پیراں وچ اِک پیر تے لکھاں مریداں وچ اِک مرید ( بیٹا ! لاکھوں پیروں میں ایک پیر اور لاکھوں مریدوں میں ایک مرید ) ۔غزل کو تنگنا قرار دے کر غالب ؔجو بھی کہتا ہے وہ زبان کااصول قرار پاتا ہے مگر اِس کا مطلب یہ نہیں کہ احقرکی کوئی بھی خوش فعلی زبان کااصول بن جائے گی۔
    اِس تمام تر بحث کا مقصد اظہار اِس امر کا ہے کہ ندیم کی شاعری کے مضامین پر رائے دینا نقادوں کے لیے شاید کارِ محال ہو، یہ مقام تو کسی صاحبِ عرفان ہی کو زیب دیتا ہے۔ ہاں ! ندیم کی شاعری بہرحال قدرتِ اظہار کے جملہ لوازمات سے آراستہ ہے اور یقینا دل میں اُتر جانے کی بھرپور صلاحیتوں سے مالامال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں ذہین قارئین کو ہوشیار رہنے کی تلقین کر رہا ہوں ۔ ندیم کا ہر شعر کئی تہوں میں لپٹا ہوتا ہے ۔ ایک ہی شعر سے سطحی قارئین بھی حظ اُٹھا سکتے ہیں اور عمیق نظر رکھنے والے بھی۔ پھر وہی شعر ادب کے سنجیدہ قارئین پر اور معنوں میں کھلے گا اور روحانیت کے سالک اُسے اور نظریے سے دیکھیں گے۔ اور وہ لوگ جو ندیم کے ذات آشنا ہیں ایک اور ہی روشنی میں اُس کا نظارہ کریں گے۔ اِس سے آگے کی تہیں کون کھولے گا ؟ اِس کا جواب دینے کی صلاحیت میں خود میں نہیں پاتا بس اتنا ہے کہ ندیم کے کہے کا انکار و اقرار وہی کرے جو آگے کی تہوں تک رسائی رکھے۔
     بات شروع ہوئی تھی ندیم کی ماورائے کائنات نکلتی انا سے جو مجھے خوف میں مبتلا کیے رکھتی ہے ۔ انہ ہو الغفور الرحیم ۔ میرے نانا مرحوم کے زمانہ طالب علمی میں گورنمنٹ اسکولوں میں اسکول انسپکٹروں کی آمد کا رواج تھا جوطالب علموں سے مختلف سوالات کیا کرتے تھے کہ بچوں کے تعلیمی معیارکا اندازہ لگایا جا سکے، جب میرے نانا کی باری آتی توانسپکٹرلا محالہ یہ کہتا ہوا سوال پوچھے بغیر آگے بڑھ جاتا کہ تمہیں تو آتا ہی ہو گا ۔ میری اوقات نہیں کہ میں ندیم کے اس شعرپر بات کروں ۔
اپنی تنہائی کو دیکھا تو سمجھ میں آیا
قل ھو اللہ احد تیرے معانی کیا ہیں
    بس لرزتے ہوئے دعا کرتا ہوں کہ ندیم کی باری آنے پر بھی یہی کہتے ہوئے آگے بڑھ جایا جائے،  ‘‘تمہیں تو آتا ہی ہو گا’’

حسنین سحر
لاہور