ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Haal | حال
Mazamin - مضامین

حال

    میرے حال میں میری سابقہ دو کتابوں میں کہیں اور جا نہیں سکتا  سن اشاعت 2000 اور تمہارے ساتھ رہنا ہے سن اشاعت  2005  کی تقریباََ تمام شاعری موجود ہے ، ایسا میں نے اس لیے کیا کہ توڑ پھوڑ تخلیق کا حُسن ہے اور ساتھ ساتھ قارئین کی سہولت کو بھی سامنے رکھا کہ اس طرح وہ ایک ہی کتاب
میں میری اب تک کی تمام شاعری کا مطالعہ کر سکتے ہیں ۔
    میں کہیں اور جا نہیں سکتا کا انتساب حضرت ابوبکر وراقؒ ، حضرت خان محمد خانؒ ، والدہ صاحبہ اور اپنے بھائیوں خضرحیات خان اور محمد نعیم خان بھابھہ کے نام ہے اور تمہارے ساتھ رہنا ہے کا انتساب اپنی شریک حیات اوربیٹوں محمد احمد وراق بھابھہ اور محمد شہر یار ندیم بھابھہ کے نام ہے ۔ بچپن میں میں نے خواجہ غلام فریدؒ کی کافیاں اپنے کانوں میں پہنی تھیں جن کی آواز آج تک میرے کانوں میں گونج رہی ہے، مجھے شروع سے ہی بزرگوں کی صحبت سے بہت لگاؤ تھا یہی وجہ تھی کہ میں اکثر حضرت ابوبکر وراق کے مزار پر رہتا تھا جو کہ ہمارے گھر سے تقریباایک فرلانگ کے فاصلے پر ہے ، آپ کا شمار تیسری صدی کے اولیا کرام میں ہوتا ہے اور آپ کے مزار کو اورنگ زیب عالمگیر نے تعمیر کرایا تھا جسے آپ نے خواب میں حکم دیا تھا مزار پاک پر قطعہ تاریخ آج بھی درج ہے ، حضرت داتا گنج بخش ہجویری نے بھی اپنی تصنیف کشف المحجوب میں آپ کا ذکر فرمایا ہے، مزار پاک پر حاضری میرا شوق تھا یا دنیا سے بے زاری کا اظہار یہ معاملہ الگ لیکن جو سکون مجھے وہاں میسر تھا وہ میری زندگی کا سامان ہو گیا بعض اوقات تو میں راتوں کو بھی وہیں قیام کر لیا کرتا تھا ، دراصل فقرا سے محبت مجھے اپنے والد صاحب حضرت خان محمد خان بھابھہ سے وراثت میں ملی قبلہ والد صاحب گھوڑوں کے بہت شوقین تھے اور دھمال کرنے والے ہمارے گھوڑے بہت مشہور ہوا کرتے تھے جو اکثر میلوں پر اپنی دلکش دھمال کے باعث انعامات جیت کر آیا کرتے تھے والد صاحب کے ساتھ میں گھوڑوں کو دھمال سکھایا کرتا تھا جو کہ ایک خاص فن ہے ، یہ وہ اسباب تھے جن کے باعث میں چلتا چلتا حضرت سلطان باھوؒ کی وادی ھو میں جا پہنچا جہاں گوشہ حضرت سلطان اصغر علیؒ دیکھا دل بہت مسرور ہوا وہ تمام ماحول جس میں میری پرورش ہوئی تھی اُس کی اعلیٰ ترین شکل میں نے وہاں پائی وہی سکون ، وہی تازی داری ، وہی ماحول میں اگر وہاں سے لوٹ بھی آتا تو لوٹ نہ پاتا سو میں حضرت سلطان محمد علی کے قدموں میں خاک ہوگیا ، یہاں سے حال کی ابتدا ہوتی ہے۔
    گوشہ حضرت سلطان اصغر علی کی پُر معارفت فضا میں میری ملاقات سلطان احمد علی سے ہوئی ، ایسا مکمل جوان میں نے پہلی بار دیکھا مستی ایسی کہ استغراق بھی شرماجائے ، ہوش ایسا کہ ہوش مندوں کے ہوش ٹھکانے لگ جائیں ، سانسوں کی آواز میں صوتِ سرمدی کا سرور ، وفا ایسی کہ کربلا یاد آجائے ، جھکی نگاہوں میں حیا ایسی کہ زمانہ جھک جائے اور اگر حیا سے لبریز آنکھیں اُٹھ جائیں توسمندر کی تہوں تک کے بھید دیکھ لیں ۔ سلطان احمد علی کی فکر کو میں نے ہمیشہ اتحادِ امت کی چارہ سازی کی طرف پرواز کرتے دیکھا اور جب وہ حضرت علامہ اقبالؒ کے فارسی اور اردو کلام کی تلاوت فرماتے ہیں توروحِ اقبال بھی جیسے وجد میں آجاتی ہے ۔ سلطان نے عقل لے لیا اور سائیں نے دل رہ گیا جسم تو اُسے بندگی نے جھکا دیا اب مجھ میں میرا کیا رہ گیا ، سو اس بے سروسامان کو یار لوگ غلام کا نام دیتے ہیں اور میری آزادی کے چھن جانے کے دکھ کو اپنے قہقہوں کی شراب کے نشے میں خوب تعن و تشنیع سے مناتے ہیں اور میں اُن کے قہقہوں کے شور میں حضرت بلال کے ساتھ کسی کام میں مصروف ہوتا ہوں ۔
    میں زیادہ کہنے والاشاعر نہیں ہوں لیکن شاعری کے انتظار میں ضرور رہتا ہوں کہ کب ربِ سخن مجھ پر مہربان ہوتا ہے ، میں شاعری کو ہنر سے زیادہ توفیق سمجھتا ہوں اور توفیق دعاؤں کا ثمر ہے سو میری شاعری محض شاعری نہیں یہ میرے لیے دعا کا درجہ رکھتی ہے ، حال آپ کے ہاتھوں میں ہے اِس کی اشاعت میں جن جن دوستوں نے دلچسپی لی میں اُن کا شکریہ تو ادا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا بس نام تحریر کرنے کی غرض سے دہرا رہا ہوں ۔ احمد کامران اور عدنان خالد نے شاعری کے انتخاب اور ترتیب میں بہت مدد کی ، شہزار رفیق نے کمپیوٹر کے متعلق کافی کام سرانجام دیے ، شفیق فاروقی صاحب نے بہت محبت سے سرِورق بنایا اور پسِ ورق پر میری تصویر آمنہ راؤ کی آنکھ کا کمال ہے پتہ نہیں کس لمحے میں اُس کے کیمرے کی ذد میں آگیا کہ مجھے خبر بھی نہ ہوئی ، میں یہ بتاتے ہوئے بہت خوشی محسوس کر رہا ہوں کہ حال کی اشاعت میں حصہ بقدر جثہ کچھ کچھ کام میرے بیٹوں محمد احمد وراق اور محمد شہریار ندیم نے بھی سرانجام دیے ، رات کے پچھلے پہر جب ایک شاعر کو چائے کی ضرورت پیش آتی تھی تو بیگم صاحبہ بغیر کسی بحث کے اور تنگ ہوئے چائے لادیتی تھیں اُن کی محبت اور خدمت کے بغیر سب کچھ نامکمل رہ جاتا ہے۔
    آخر میں میں شکر گزار ہوں اپنے دوستوں عباس تابش ، منصور آفاق ، ناہید ورک اور احمد خیال کا جنہوں نے میری شاعری پر اپنی رائے دی اور میرے مان اور حوصلے کو بڑھایا ، حسنین سحر کی مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ وہ میرا کیا ہے ، اللہ پاک سب سے راضی ہوں ۔

محمد ندیم بھابھہ