ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Maen Kahin Aur Ja Nahin Sakta | میں کہیں اور جا نہیں سکتا
Ghazlen - غزلیں

اُس کی باتیں ، اُس کا لہجہ اور میں ہوں

اُس کی باتیں ، اُس کا لہجہ اور میں ہوں
نظم پڑی ہے مصرع ،مصرع اور میں ہوں
ایک دِیا رکھا ہے ہوا کے کاندھے پر
جس کا لرزتا جلتا سایا اور میں ہوں
اس گائوں کی آبادی بس اتنی ہے
شہر سے بھاگ کے آنے والا، اور میں ہوں
چاروں جانب تنہائی کے لشکر ہیں
بے ترتیب سا ہے اک کمرہ اور میں ہوں
ویسے تو سب لوگ یہاں پر مردہ ہیں
اُس نے مجھ کو زندہ سمجھا ، اور میں ہوں