ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Maen Kahin Aur Ja Nahin Sakta | میں کہیں اور جا نہیں سکتا
Ghazlen - غزلیں

تو بھی آجائے یہاں اور مرا بچپن بھی

تُو بھی آ جائے یہاں اور مرا بچپن بھی
ختم ہو جائے کہانی بھی ہر اک الجھن بھی
بھیک مل جاتی ہے اور پانی بھی پی لیتا ہوں
ہاتھ کشکول بھی ہیں ، اور مرے برتن بھی
کیا ضروری ہے کسی مور کا ہونا بن میں
رقص کرتا ہے تِرے دھیان میں تو تن من بھی
کیوں تِرے غم میں کسی اور کو شامل کر لوں
کس لیے روئے مرے ساتھ مرا آنگن بھی
ایک ویران ریاست کی طرح ہوں میں ندیمؔ
فتح کر کے مجھے پچھتائے مرے دشمن بھی