ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Haal | حال
Ghazlen - غزلیں

صحرا میں اک پھول ہے جس میں ہر ہر رنگ

صحرا میں اِک پھول ہے جس میں ہر ہر رنگ
ہم بھی اُس کے خار ہیں ہم بھی اُس کے سنگ
چاند کا اِک دربار ہے تارے درباری
تین سو تیرہ مست ہیں یعنی سات ملنگ
جو بھی اُس کا ہو رہے اس میں کرے قیام
کعبہ عَربستان میں اور میں دیکھوں جھنگ
اپنی اپنی مستیاں ، اپنا اپنا دھیان
دنیا ہم سے تنگ ہے ہم دنیا سے تنگ
ذات صفات کے بوجھ سے ہو جائیں آزاد
جشن منائیں وصل کا آئو کھیلیں رنگ
گیان اور دھیان اک پیڑ ہے دُکھ سکھ پھل اور پھول
خود نے خود کو سینچنا ،خود کی خود سے جنگ
تُو اور میں کے درمیاں عشق کی خاموشی
سادھو نے چُپ سادھ لی ، ایک فقیر کے سنگ