ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Haal | حال
Ghazlen - غزلیں

روح حاضر ہے مرے یار کوئی مستی ہو

روح حاضر ہے مرے یار کوئی مستی ہو
حلقۂ رقص ہے تیار کوئی مستی ہو
مجھ کو مٹی کے پیالے میں پلا تازہ شراب
جسم ہونے لگا بے کار کوئی مستی ہو
چار سمتوں نے تِرے ہجر کے گھنگھرو باندھے
اور ہم لوگ بھی ہیں چار کوئی مستی ہو
میں مَن و تُو کے صحیفوں کی تلاوت کروں گا
بے وضو ہوں مری سرکار کوئی مستی ہو
کوئی واعظ نہ وظیفہ نہ کوئی صوم و صلوٰۃ
جان چھوٹے مری اِک بار کوئی مستی ہو
تیرے احساس کی شدت سے بھرا بیٹھا ہوں
اب نہ انکار نہ اقرار کوئی مستی ہو
بے نیازانہ رہے گا تِری دنیا میں فقیر
خواب و خواہش نہیں درکار کوئی مستی ہو