ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Maen Kahin Aur Ja Nahin Sakta | میں کہیں اور جا نہیں سکتا
Ghazlen - غزلیں

میں ایسے موڑ پر اپنی کہانی چھوڑ آیا ہوں

میں ایسے موڑ پر اپنی کہانی چھوڑ آیا ہوں
کسی کی آنکھ میں پانی ہی پانی چھوڑ آیا ہوں
کسی زندہ کی خاطر زندگانی چھوڑ آیا ہوں
میں ایسا رائیگاں ہوں رائیگانی چھوڑ آیا ہوں
ابھی تو اُس سے ملنے کا بہانہ اور کرنا ہے
ابھی تو اُس کے کمرے میں نشانی چھوڑ آیا ہوں
بس اِتنا سوچ کر ہی مجھ کو اپنے پاس تم رکھ لو
تمہارے واسطے میں حکمرانی چھوڑ آیاہوں
اسی خاطر مرے چاروں طرف پھیلا ہے سنّاٹا
کہیں میں اپنے لفظوں کے معانی چھوڑ آیا ہوں