ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Dar Haqeeqat | در حقیقت
Ghazlen - غزلیں

کسی نگاہ کی تاثیر ہو کے کھلتے ہیں

کسی نگاہ کی تاثیر ہو کے کھلتے ہیں
خموش لوگ ہیں تحریر ہو کے کھلتے ہیں
ہمارا ہونا بھی ہونا ہے دوسرے کا جناب
ہمارے بھید بھی تصویر ہو کے کھلتے ہیں
میں ہر فریب پہ کہتا ہوں بس خدا کی لکھی
کہ مجھ پہ دوست بھی تقدیر ہو کے کھلتے ہیں
ملے بغیر کبھی رد ہمیں نہیں کرنا
کئی حجاب بغلگیر ہو کے کھلتے ہیں
جو فتح کرنے پہ آئیں تو ہم ہی غالب ہیں
جو کھلنا چاہیں تو پھر میر ہو کے کھلتے ہیں