ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Maen Kahin Aur Ja Nahin Sakta | میں کہیں اور جا نہیں سکتا
Ghazlen - غزلیں

جھرنے ، ندی ، پہاڑ ہیں دریا کوئی تو ہو

جھرنے ، ندی ، پہاڑ ہیں دریا کوئی تو ہو
گر میں نہیں وہاں مرے جیسا کوئی تو ہو
سوچا تھا کٹ ہی جائے گی تنہا تمام عمر
لیکن تمام عمر ، خدارا کوئی تو ہو
اِک عمر تجھ سے مل نہ سکے اور ایک عمر
یہ سوچتے کٹی کہ بہانہ کوئی تو ہو
تنہائی اِس قدر ہے کہ عادت سی ہو گئی
ہر وقت کہتے رہنا ہمارا کوئی تو ہو
کچھ اِس لیے بھی مجھ کو محبت ہے تم سے دوست
میرا کوئی نہیں ہے تمہارا کوئی تو ہو
کمرے میں آج میرے علاوہ کوئی نہیں
کمرے میں آج میرے علاوہ کوئی تو ہو