ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Tumharay Saath Rehna Hai | تمہارے ساتھ رہنا ہے
Ghazlen - غزلیں

عشق اگر عشق نہیں کارِ ضرورت ہو جائے

عشق اگر عشق نہیں کارِ ضرورت ہو جائے
عین ممکن ہے تجھے مجھ سے محبت ہو جائے
تونے تو خیر محبت بھی نہیں کی مری جاں
اور وہ لوگ جنہیں خود سے بھی نفرت ہو جائے
مجھ کو بے کار نہیں بیٹھنے دیتا ہے جنوں
رقص اگر ہو نہیں سکتا کہیں ہجرت ہوجائے
آج کل خود کو میّسر ہو ں تِرے شہر میں ہوں
نہ سہی عشق چلو کوئی شرارت ہو جائے
تم جسے ظلم سمجھتے ہو بہت ممکن ہے
عشق کے باب میں یہ باعثِ شہرت ہو جائے
مجھ کو اپنوں کی طرح مل کہ جہاں دیکھتاہے
تیرا بھی نام بنے میری بھی عزت ہو جائے
مجھ سے ناراض بہت ہوں گے مرے گائوں کے پیڑ
ملنے جائوں گا اگر غم سے فراغت ہو جائے
اب تو یہ سوچ کے بس خوف زدہ ہوں میں ندیمؔ
میری تنہائی کسی روز نہ وحشت ہو جائے