ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Maen Kahin Aur Ja Nahin Sakta | میں کہیں اور جا نہیں سکتا
Ghazlen - غزلیں

چلاگیا ہے وہ لیکن نشان اب بھی ہیں

چلا گیا ہے وہ لیکن نشان اب بھی ہیں
کہ اُس کے سوگ میں پسماندگان اب بھی ہیں
یہ اور بات کہ رہنا مِرا گوارا نہیں
تمہارے شہر میں خالی مکان اب بھی ہیں
یہ عشق ہے کہ تجھے چھوڑ بھی نہیں سکتے
وگرنہ تجھ سے تو ہم بد گمان اب بھی ہیں
ہمیں تو پہلے بھی تم سے گِلہ نہیں تھا کوئی
اور اب کے ہے بھی تو ہم بے زبان اب بھی ہیں
خدائے عشق ترے واسطے سجائے ہوئے
ہمارے دل میں کئی لامکان اب بھی ہیں