ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Maen Kahin Aur Ja Nahin Sakta | میں کہیں اور جا نہیں سکتا
Ghazlen - غزلیں

چاند روشن ہے تو بس شب کی اذیت تک ہے

چاند روشن ہے تو بس شب کی اذیّت تک ہے
جانتاہوں کہ ترا ساتھ ضرورت تک ہے
ایک کردار کہانی کے لیے میں بھی ہوں
اور صحرا بھی مری آخری ہجرت تک ہے
تُو نہیں ہوتا اگر کس نے یہاں رہنا تھا
دوست یہ گھر بھی فقط تیری سکونت تک ہے
انتہا کوئی تو ہو تیری طرف سےمری جاں
منتظر تیرا کوئی شخص قیامت تک ہے
اپنی تنہائی سے پوچھوں گا اگر پوچھ سکا
کیا یہ سچ ہے کہ ہر اک دوست سہولت تک ہے
مر گئے لو گ یہاں سارے مگر اب بھی ندیمؔ
کوئی زندہ ہے اگر اُس کی محبت تک ہے