ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Maen Kahin Aur Ja Nahin Sakta | میں کہیں اور جا نہیں سکتا
Ghazlen - غزلیں

بہت شدت سے جو قائم ہوا تھا

بہت شدت سے جو قائم ہوا تھا
وہ رشتہ ہم میں شاید جھوٹ کا تھا
محبت نے اکیلا کر دیا ہے
میں اپنی ذات میں اِک قافلہ تھا
مری آنکھوں میں بارش کی گھٹن تھی
تمہارے پائوں بادل چومتا تھا
تمہاری ہی گلی کا واقعہ ہے
میں پہلی بار جب تنہا ہوا تھا
کھجوروں کے درختوں سے بھی اونچا
مرے دل میں تمہارا مرتبہ تھا
پھر اس کے بعد رستے مرگئے تھے
میں بس اِک سانس لینے کو رُکا تھا