ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Haal | حال
Ghazlen - غزلیں

عقل سے کاروبار تھا عقل کو آزما لیا

عقل سے کارو بار تھا ،عقل کو آزما لیا
یعنی تمہارے عشق میں ہم نے فریب کھا لیا
پہلے ہم اُس کے پاس تھے ، اب وہ ہمارے پاس ہے
چاہا تو اُس کوچھو لیا ، چاہا گلے لگا لیا
روزِ ازل سے تھا عیاں اور ہے آج بھی عیاں
ہم سےہوا تو یہ ہوا دل میں اُسے چھپا لیا
عشق ہے دل کی واردات عقل ہے کیفیّت کا نام
عشق ہے کیفیّت سے پاک ہم نے یہ آزما لیا
روح کی بات اور ہے روح کے درد اور ہیں
جسم کو تھوڑی نیند ہو جسم بہت تھکا لیا
چند نصیحتیں ندیم ؔاور بہت سے اعتراف
جو ہو سکا سو کر دیا جو بھی مِلا کما لیا