ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Search Haal | حال
Ghazlen - غزلیں

اب تجھ سے نہیں کوئی بھی تکرار مرے یار

اب تجھ سے نہیں کوئی بھی تکرار مرے یار
میں مان گیا میری ہوئی ہار مرے یار
ممکن ہے مری ہار سے بچ جائے تری جان
تلوار اُٹھا اور مجھے مار مرے یار
میں یونہی نہیں بھاگا تھا صحرائوں کی جانب
آواز سنی تھی کہ مرے یار مرے یار
اک خواب بناتا ہے محبت کی کہانی
اور ٹوٹ کے مر جاتے ہیں کردار مرے یار
بہتر ہے کہ ہم توڑ ہی ڈالیں یہ خموشی
بول اُٹھیں گے ورنہ در و دیوار مرے یار
یہ لوگ ترا ہجر بھی شاید نہ نبھا پائیں
یہ لوگ نہیں قابل دستار مرے یار