ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Dar Haqeeqat | در حقیقت
Dar Haqeeqat - در حقیقت

پہلا پیڑ

======= پہلا پیڑ =======
کیکر سب سے زیادہ رو رہا تھا اور برگد کے پاس کوئی خاص دلاسہ بھی نہیں تھا وہ الٹا انسان کی وکالت کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ ایسا اس لیے ہوا ہے کہ تمہاری نسل نے کانٹے اپنے ساتھ رکھے۔  سال میں ایک بار تمام پیڑ اکٹھے ہوتے تھے، کہتے ہیں صدیوں پہلے جنگل پیڑوں سے بھر جاتا تھا اور تیز دوپہر میں بھی اندھیرا چھا جاتا تھا پھر آہستہ آہستہ سورج کی کرنوں نے راستہ بنانا شروع کیا روشنی کے اس حملے کے بعد جنگل کا اندھیرا ختم ہو چکا ہے ، آج وہی اجتماع تھا بقا اور ارتقا کے مباحثے مرثیوں میں بدل چکے تھے اور برگد بادشاہ کے آگے کیکر انسان کی شکایتیں کر رہا تھا،چھوٹی چھوٹی جھاڑیاں اپنا رونا رو رہیں تھیں ۔  شیشم کہیں مصروف تھا اس کی برادری میں چند دن پہلے ایک حادثے میں اکٹھی اموات ہوئی تھیں ۔ بکھرے بکھرے جنگل کا عجیب دن تھا ، اس سال جنگل میں بارشیں کم ہوئی تھیں قدیم زمانے میں ایسے اجتماعات میں بارش کی دعائیں کی جاتی تھیں مگر اب انسانوں سے بچنے کی تدبیریں کی جا رہی ہیں ایسے لگ رہا تھا کہ دعا سے پیڑوں کا یقین بھی اٹھ گیا ہے ۔
جنڈ کا پیڑ اپنی سختی میں مشہور ہے لیکن آج اس کی کمر بھی جھکی ہوئی تھی اور بیری تو سنگسار ہونے کے بعد ادھ مرا بدن اٹھائے ہانپ رہا تھا کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ بقا کی اس جنگ کو کیسے لڑا جائے اور اس معاملے میں تو برگد کو بھی چپ لگی ہوئی تھی خیر جب سب اپنا اپنا رونا رو چکے اور ہچکیوں کے بعد کی خاموشی کا ماحول طاری ہوا تو اچانک برگد نے اپنی خاموشی توڑی اور بولا کہ آج میں تم سب کو پہلے پیڑ کی کہانی سناتا ہوں یہ کہانی ہمارے ہاں نسل در نسل چل رہی ہے اور سینہ بہ سینہ مجھ تک پہنچی ہے۔
یہ جو آج ہمارے مختلف قبیلے ہیں اور الگ الگ شناخت ہے اس کی وجہ انسان سے محبت ہے کروڑوں سال پہلے جب دھرتی پر پانی کے علاوہ کچھ نہ تھا تو جنت سے ایک لکڑی پھنکی گئی تھی اور اس لکڑی کو کہا گیا تھا کہ زمین کا سارا کاربن اپنے اندر جذب کرو اور پانی میں موجودسانسوں سے زمین کو رہنے کے قابل بناؤ یہ وہ پہلا کام تھا جو جنت کی اس تن آسان لکڑی کے ذمے لگایا گیا تھا لکڑی نے پانی پیا اور پہلے پیڑ کا روپ دھارا ، زمین نے اسے سہارا دیا اور یوں ایک بہت بڑا پیڑ وجود میں آیا ، بزرگ کہتے ہیں کہ آج اگر ہزار برگد بھی مل جائیں تو اس پیڑ کے پھیلاؤ اور اونچائی کا مقابلہ نہیں کر سکتے ، مجھے میرے دادا نے ایک راز کی بات بتائی تھی کہ کسی طرح اس پہلے پیڑ نے یہ جان لیا تھا کہ زمین کس کے رہنے کے قابل بنائی جا رہی ہے اور دادی اماں نے تو کھل کر بتا دیا تھا کہ پہلے پیڑ کو زمین پر خدا کے نائب انسان سے پیار ہوگیا تھا۔
قصہ مختصر پہلے پیڑ نے آکسیجن پھیلانے کے کام کو عشقِ انسان میں مزید تیز کر دیا پیڑوں سے پیڑ پیدا ہوتے رہے کھردری اور بے ترتیب زمین پر سبزہ چھانے لگا ، ایک دن پہلے پیڑ سے پینے والے پانی کی ملاقات ہوئی جب اسے بتایا گیا کہ بہت جلد انسان آنے والا ہے اس دن پہلے پیڑ نے خوب خوشیاں منائیں اور بزرگ کہتے ہیں اسی دن بھاگ دوڑ میں پہلے پیڑ کا بازو ٹوٹا تھا ورنہ تو کوئی پتہ بھی نہیں ٹوٹتا تھا تو جناب عشق کے مارے بزرگوار نے اپنے بازو کو زمین میں گاڑا اور اسے پھل دار ہونے کی دعا دی کیا ذہانت تھی اور کیا عمل تھا کہ آج تک جو بھی عشق میں ٹوٹ جاتا ہے پھل دینے لگتا ہے ۔
اس بازو نے بھی اپنی نسل کو خوب بڑھایا اور کئی اقسام کے پھلدار پیڑ پیدا کیے سینکڑوں سال گزر گئے زمین پر ہر طرف پیڑ ہی پیڑ ہو گئے اور آکسیجن نے انسانی زندگی کے آثار پیدا کر دیے ، ماحول سازگار ہوگیا انتظار ختم ہو گیا ، کہتے ہیں اس دن پہلا پیڑ بہت خوش تھا اور تمام پیڑوں کو حکم دے چکا تھا کہ جب آدم آسمان کی طرف سے گرتا ہوا آئے تو اسے چوٹ نہ لگے تمام پیڑوں نے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے سب کے دو دو ہاتھ تھے اس دن پہلے پیڑ کو اپنے ایک ہاتھ کے نہ ہونے کا تھوڑا سا دکھ ہوالیکن محبوب کی آمد کی خوشی زیادہ تھی۔
اچانک پورا جنگل روشن ہوا اور سب پیڑ جھوم جھوم کر آنے والے مہمان کو خوش آمدید کہنے لگے زمین پر پہلی بار ہوا کا چلنا دریافت ہوا ، آنے والا آدم تھا اور خوشیاں منانے والے ہم سب کے آبا و اجداد تھے ، یہ سن کر کیکر دھاڑیں مار کے رونے لگا نیم کے پیڑ نے اسے چند کڑوی سنائیں اور ڈانٹ کر چپ کرایا برگد نے کہانی جاری رکھی ، پہلے پیڑ پر آج جوبن تھا اور اس کی اولاد آمدِ انسان کے جشن میں مست تھی سارے پیڑ جانتے تھے کہ آدم اور پہلے پیڑ میں آشنائی ہے یعنی عاشق و معشوق والا معاملہ ہے اس لیے آدم کی صحبت کا حق پہلے پیڑ کو ہے ۔
اچانک سب کا رقص تھم گیا اور حیرت چھا گئی آدم تو سیب کے پیڑ کی طرف جا رہا تھا سیب کا پیڑ جو پہلے پیڑ کے ٹوٹے ہوئے بازو سے نکلا تھا نہ دیکھنے میں اچھا نہ پھیلاؤ میں بڑا اور نہ ہی گھنا بس کمزور سا ایک پیڑ اور پھر سب نے آدم کو سیب کے پیڑ سے سیب توڑ کر کھاتے ہوئے دیکھا ایک ، دو تین اور بہت سے سیب جنہیں آدم نے توڑا اور اتفاقاً پہلے گھنے پیڑ کے نیچے بیٹھ کر کھانا شروع کر دیاآپ میں سے بہت سے پیڑوں کو ان کے باپ دادا نے بتایا ہوگا کہ اس عمل پر خود سیب کا پیڑ بھی خوش نہیں تھا پر آدم کی اپنی مرضی تھی وہ جسے پسند کرے۔  بیری کے پیڑ نے برگد کی بات کاٹی اور کڑھ کر بولا کیوں اپنی مرضی تھی اسے پہلے پیڑ کے جذبات کو سمجھنا چاہئے تھا برگد نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا تم کیا جانو دل کے معاملے ، دل حکم نہیں پسند مانتا ہے برگد کی اس بات کی تائید پیپل نے بھی کی ویسے کہا جاتا ہے بیری کو سیب سے تھوڑا سا حسد بھی ہوتا ہے دونوں کے پھل دیکھنے میں ایک جیسے ہیں پر آدم نے سیب کو پسند کیا تھا ۔
آدم پہلے پیڑ کے نیچے بیٹھا تھا نہ گلے ملا نہ شاخوں سے جھولا بس آ کر بیٹھ گیا تھا پہلا پیڑ جو مدت سے خود کو سجا رہا تھا بڑھا رہا تھا اس دن اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے نہ وہ آدم کے چہرے کو اداس دیکھ سکتا تھا اور نہ اپنے لہجے کی اداسی کو چھپا سکتا تھا اس لیے اس نے کوئی بات نہ کی ، اسی خاموشی میں دن مہینے سال گزرتے گئے روز آدم برگد کی گود میں رات کو سو جاتا اور گیان سے بھرے خواب دیکھتا رفتہ رفتہ آدم کے چہرے پر تبدیلی آنا شروع ہوئی نرم رخساروں کا بہت سا حصہ سیاہ داڑھی میں چھپ گیا آدم کا عاشق پہلا پیڑ بھی آہستہ آہستہ آدم کی شکل دھارنے لگا اور داڑھی بڑھانے لگاجبکہ آدم سیب کے بعد امرود ، آم وغیرہ کے درختوں سے بھی ملنے جلنے لگا اور ان کے پھل کھانے لگا یہ تمام درخت اسی عشق کی راہ میں ٹوٹے ہوئے بازو کی نسل سے تھے اور آدم سے پہلے باقی پیڑ انہیں حقارت سے دیکھتے تھے کہ جیسے انہیں ہونا نہیں چاہئے تھا بس ہو گئے۔  پھر ایک دن ایسا بھی آیا جب آدم ان پیڑوں کو ساتھ لے کر جنگل سے چلا گیا کہتے ہیں اس کے بعد بس چند سال ہی پہلا پیڑ زندہ رہا لیکن بے شمار نصیحتیں کر کے گیا ان لاتعداد نصیحتوں میں سے ایک نصیحت یہ بھی تھی کہ خود کو خار دار نہ کرنا۔ البتہ وصیت ایک ہی تھی کہ مجھے جلانا مت بلکہ دفنانا۔  کہانی ختم کر کے برگد بولا ۔۔۔ یہ جو کیکر رو رہا ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ اس کے آبا و اجداد نے خود پر کانٹے اگا لیے تھے جن کی چبھن کے احساس کے بعد انسان ان کا دشمن ہوگیا انہیں کاٹ کر جلانے لگا اگر پہلے پیڑ کی نصیحت مان لیتے تو آج اتنا واویلہ نہ کر رہے ہوتے میں تو اب بھی یہی کہوں گا کہ اپنے کانٹے دور کرو ورنہ انسان تمہیں اپنا دشمن سمجھ کر ختم کر دے گا ۔  بات ابھی جاری تھی کہ دور سے دھول اڑتی ہوئی دکھائی دی کچھ لمحے بعد جب منظر واضح ہوا تو سیب ، امرود اورآم کے بہت سے پیڑ جنگل کی طرف بھاگ کر آ رہے تھے۔
بادشاہ سلامت ہمیں ہماری نسل کی بقا کے لیے جنگل میں جگہ دی جائےانسان ہمیں ختم کر کے کالونیاں بنا رہا ہے
ندیم بھابھہ
31 جولائی 2017