ONLINE ORDER
Muhammad Nadeem Bhabha
Dar Haqeeqat | در حقیقت
Dar Haqeeqat - در حقیقت

جنوبی پنجاب

======= جنوبی پنجاب =======
جنوبی پنجاب شعری حوالے سے ایک زرخیز خطہ ہے جس میں چاروں دریاؤں کا ذائقہ موجود ہے اور حضرت سلطان باھو، بلھے شاہ، خواجہ غلام فریدکا روحانی و شعری فیض جاری ہےکہیں کہیں سچل سرمست کی تانیں بھی سنائی دیتی ہیں۔
ملتان رنجیت سنگھ سے پہلے ہندوستان میں وہی حیثیت رکھتا تھا جو دلی کی تھی اور لاہور کو ملتان کا مضافات کہا جاتا تھاپھر وقت نے چھوٹے کو بڑا اور بڑے کو چھوٹا کیا ، علمی ادبی حوالے سے لاہور کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں بلکہ لاہور کو پاکستان کا نظریاتی دارلحکومت کہا جائے تو بجا ہوگا، مضمون کی غرض سے فرض کی گئی علاقائی تقسیم کو سیاسی تقسیم نہ سمجھا جائے۔
اگر ہم جنوبی پنجاب کی سرحد کا تعین ساہیوال سے ڈیرہ غازی خان ، سرگودھا سے میانوالی، اور ساہیوال سے صادق آباد تک کریں تو اس میں کئی اضلاع ایسے آتے ہیں جن میں پیدا ہونے والی شخصیات کے ذکر کے بغیر ہم لاہور کو ادبی دبستان کا درجہ نہیں دے سکتے، زیادہ دور تک قیاس کرنے کی ضرورت نہیں ہم بیدل حیدری، اسلم انصاری اور ظہور نذر سے بات کا آغاز کر سکتے ہیں اور گفتگو کو جاری رکھنے کے لیے غلام حسین ساجد، محسن نقوی، نوشی گیلانی، منصور آفاق، عباس تابش، قمر رضا شہزاداور ڈاکٹر ابرار بھرپور حوالے ہیں بات کو مزید تقویت دینے کے لیے فرحت عباس شاہ، وصی شاہ کی شہرت سند ہےاور لاہور پر جنوبی پنجاب کے فیض کو دیکھنا ہو تو احمد ندیم قاسمی صاحب کا نام ہی کافی ہے۔
بات یہاں تک ختم نہیں ہوتی بلکہ بات کا یہاں سے آغاز ہوتا ہے، جنوبی پنجاب میں شعری حوالے سے رئیس ترین ضلع بہاولپور ہے اور اس کے بعد وہاڑی اور خانیوال سر فہرست ہیں ڈیرہ غازی خان ، مظفر گڑھ اور رحیم یار خان کی اپنی شان و شوکت ہے، آپ کو بہت سے نام ملیں گے جنہوں نے شعری لہجے وضع کیے اور اگر ساہیوال کو بھی جنوبی پنجاب کا حصہ مان لیا جائے ( ساہیوال ملتان ڈویژن کا حصہ رہا ہے ) تو مجید امجد جیسی بڑی شخصیت بھی جنوبی پنجاب کے حصے میں آتی ہے۔
ظہور نذر کے شہر بہاولپور میں نوشی گیلانی کے بعد بھی شہرت کے دروازے بند نہیں ہوئے اور خاص طور پر نوجوانوں کے شعر کو دیکھیں تو امیدیں اور زیادہ روشن ہو جاتی ہیں، اسی طرح خانیوال میں بھی 90 کی دہائی تک توانا لہجوں کی آمد جاری رہی ، یہی معاملہ ملتان کا ہے جبکہ ڈیرہ غازی خان اور مظفر گڑھ بھی نئے لہجوں سے چمک رہا ہےوہاڑی کی طرف دیکھیں تو عباس تابش نئے امکانات کے دروازے کو کھولے دعوت سخن دیتا دکھائی دے گا، مذکورہ اضلاع میں سے سب سے اہم بہاولپور ہے
ہم لوگ کریڈٹ دینے میں بہت کنجوس لوگ ہیں اور اعزاز چھیننے میں بڑے ظالم ہیں، ایک دور تھا جب رواج تھا کہ اہلِ مرکز یعنی لاہور والے مضافات یعنی جنوبی پنجاب کا حق کھا رہے ہیں اور اس تقریر کو لاہور سے ہماری طرف آئے شاعر خوب مرچ مصالحے کے ساتھ مائک ہونے کے باوجود اونچی آواز میں گنگنایا کرتے تھے گویا یہ اس وقت کا ادبی گیت تھا، اب یہ کام اور طریقے سے ہو رہا ہے۔
جنوبی پنجاب کے حوالے سے میں نے بہت سا کام کیا ہے یعنی سیاسی نبض کو بھی محسوس کیا ہےاور ادبی سماجی مسائل کو بھی سمجھا ہےاور ایسا کسی منصوبے کے تحت نہیں کیانو جوانی کے دنوں میں تاج لنگاہ صاحب سے کئی ملاقاتیں ہوئیں لنگاہ صاحب قبلہ والد صاحب کے دوست تھے جنہوں نے سرائیکی صوبے کا نعرہ لگایا تھا
میں نے لاہور سے پنڈی تک جی ٹی روڈ کے اردگرد کے اضلاع میں ہونے والی مسلسل ترقی کو دیکھاجس کی وجہ سے جنوبی پنجاب نظر انداز ہو رہا تھا اور خاص طور پر مرکز مضافات کے ادبی نعروں نےمجھے بہت سے معاملات پر غور کرنے کے لیے مجبور کیا خیر اس بات سے ہٹ کرعرض ہے کہ جنوبی پنجاب کی شاعری میں ایک الگ احساس ہے جس کی وجہ صحرا کی ہم نشینی ہےوہ چاہے روہی ہو یا تھل ان دونوں صحراؤں نے ہجر کے کئی خودرو پودے اگائے ہیں اور وصل کی مہندی سے کئی ہاتھ رنگے ہیں، یہاں کی شاعری میں فارسی کے غزالوں کی ہوک بھی ہے اور عرب کے پہاڑوں کی گونج بھی، بغداد کا علم بھی ہے اور اجمیر کی دھمال بھی ، یہاں کی تہذیب میں مدینے کی کھجوروں کی مٹھاس بھی ہے اور کربلا کی پیاس بھی۔
دورِ حاضر میں بے شمار نوجوانوں کے نام گنوائے جا سکتے ہیں جو لاہور اور کراچی میں محض اس لیے موجود ہیں کہ جنوبی پنجاب میں روزگار کے وسیلے بھی کم ہیں اور علمی درسگاہیں بھی اس معیار کی نہیں جیسے لاہور ، کراچی اور اسلام آباد میں ہیں، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے دیہات اجاڑ دیے اور خطے کے شعری لہجے پر بھی بھرپور اثر ڈالا رہی سہی کسر سوشل میڈیا میں مشہور ہونے کی دوڑ نے پوری کر دی کہ نوجوان اپنے لینڈ سکیپ اور مسائل سے کٹ گئےاور بے سر و پا قسم کی شاعری بھی کرنے لگے لیکن امید یہ ہے کہ بہت جلد وہ پلٹ آئیں گے کیونکہ آب و ہوا کا ایک اپنا اثر ہوتا ہے اور ویسے بھی ہم 70 کے بعد سے اب تک شعری سکوت میں مبتلا ہیں بلکہ شعری ماخوذ میں مبتلا ہیں۔
جنوبی پنجاب کے شعری لہجے کو متاثر کرنے کی کئی تحریکیں بہت جلد دم توڑ گئیں جس کی بھرپور مثال ہائیکو ہے اب وہاں کے جوانوں میں عشرہ کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے جس میں صنف کی دلکشی کم اور شخصیت کی پوجا پاٹ زیادہ ہےخیر یہ جوان خون کی بغاوت یا محبت ہے جس پر ماتم بھی کیا جا سکتا ہے اور نعرہ بھی مارا جا سکتا ہے۔ جنوبی پنجاب کے لوگوں کی ایک خاص نفسیات ہے جس میں بے پرواہی بہت ہے وہاں سیڑھی کھینچنے والے بہت ہیں اس لیے ہیلی کاپٹر یا اڑن کھٹولا آتا ہے رسی پھینکتا ہے لٹکنے والا لٹک کر لاہور یا خلیجی ریاستوں میں پہنچ جاتا ہے۔

======= زیر بن زبر نہ تھی متاں پیش پوی =======
کیا خبر خواجہ غلام فرید نے یہ جملہ کہا ہے یا نہیں پر جنوبی پنجاب کے لوگوں کے خون میںیہ بات سما گئی ہے مگر انسانی فطرت کا کیا کیجے جو ہمیشہ زیر نہیں رہ سکتی غلامی چھ سو سال کی ہو یا چھ ہزار سال کی آخر اس نے ختم ہونا ہوتا ہے ، غلامی جب نئی نئی خاتمے کے سفر کا آغاز کرتی ہے تو انسانی نفسیات پر عجیب و غریب حملے کرتی ہے اسے بے باک بناتے بناتے بے ادب بنا دیتی ہے، دلیر بناتے بناتے بدمعاش بنا دیتی ہے، جرم اپنی شناخت بدل لیتا ہے ۔ اس وقت جنوبی پنجاب اپنی نفسیاتی غلامی سے باہر آرہا ہے تبھی اس خطے میں آپ کو چھوٹی چھوٹی بات پر جھگڑتے ہوئے لوگ بکثرت ملیں گے،  جنوبی پنجاب کا اخلاقی سبق ہے زیر بن،  انسانی نفسیات ہے زبر تھی،  اور مسئلہ ہے پیش پڑ گئے۔
سفر کی سہولیات اور انٹرنیٹ کے تیز ترین رابطوں نے ایک نئی دنیا تشکیل دے دی اور اس دنیا کے نئے برج گروپس اور پیجز کے نام سے پگڑی گرانے لگےاونچا دیکھنے کی خواہش میں ہم دستار کی حفاظت نہ کر سکے، دستار شاید ہوتی ہی اس لیے ہے کہ سیدھا دیکھو نہ جھکو نہ اکڑو ،  آپ نے غور کیا ہوگا کہ ابھی میری پچھلی تحریر پر کئی طرح کے مباحثے ہوئے کہ فلاں شہر زیادہ زرخیز ہے فلاں شاعر بڑا ہے وغیرہ ساتھ ساتھ لاہور کے ادیبوں نے ایک حکومتی مسئلے کو ذاتی سطح پر لیا اور باقاعدہ کوسا ، میرے خیال میں ادبی طور پر پنجاب کی تقسیم ممکن ہی نہیں پر سیاسی حالات وسائل کی تقسیم اور بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ فاصلے اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ پنجاب کے تین نہیں تو دو حصے لازمی ہوںآپ غور فرمائیں صادق آباد سے کم از کم 14 گھنٹے کا سفر کر کے لاہور آنا پڑتا ہےاور فورٹ منرو سے یہی سفر 20 گھنٹے کا ہو جاتا ہے اب جس غریب کو صوبائی مرکز میں وزیر اعلیٰ کی کھلی کچہری میں کوئی عرضی پیش کرنی ہو وہ کیا کرےلہذا ادیب برادری سے عرض ہے کہ وہ انسانی سہولت کو سامنے رکھیںپنجاب کی تقسیم اور سیاسی ناانصافی ادبی یا لسانی مسئلہ نہیں ہے، میں پیدا میلسی میں ہوا جبکہ تعلیم لاہور سے حاصل کی اور اب جس شعور کے زیر اثر بات کر رہا ہوں یہ لاہور کی آب ہوا کی ہی دین ہے۔کسی بھی صوبائی یا قومی نشست کی حلقہ بندی انسانی تعداد پر ہوتی ہے نہ کہ رقبے پر اسی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے آپ گوگل کر لیں اور تمام صوبوں کی آبادی کا چارٹ دیکھ لیں آپ کو اندازہ ہوجائے گاکہ اس وقت پنجاب کی تقسیم ناگزیر ہو چکی ہے ، میں جانتا ہوں ہمارے برصغیر میں تقسیم کے لفظ کی کس انداز میں سوچا جاتا ہے پر اب سوچ کو بدلنا لازمی ہوگیا ہے تقسیم کی اس ضرورت کو سمجھا جائے، سیاسی مقاصد کی خاطر پنجاب کی تقسیم کو روک کر ملکی ترقی کے راستے میں پہاڑ کھڑا کیا جا چکا ہے،  اگر آپ جنوبی پنجاب کے سرائیکی شعرا کی شاعری سنیں تو تخت لاہور کے خلاف نفرت کو سمجھ سکیں گے جو آہستہ آہستہ لاوا بنتی جا رہی ہے میرے خیال میں ایسا نہیں ہونا چاہئے اور اگر ایسا ہوتا رہا تو بہت کچھ ممکن ہے جو ابھی ہماری سوچوں میں ناممکن لگ رہا ہے، بطور ادیب آپ جانتے ہیں کہ فنونِ لطیفہ تشدد کو ختم کرتے ہیں اب غور فرمائیں کہ لاہور میں تو فیسٹیول ہو رہے ہیں جبکہ جنوبی پنجاب کے میلے اس سال رکوا دیے گئےتوکیا یہ سمجھا جائے کہ وہاں جان بوجھ کر تشدد سے بھری نسلیں پیدا کی جا رہی ہیں یا میلے رکوانے کے پیچھے کسی مذہبی گروہ کا ہاتھ ہےاور ایسا مذہبی گروہ جو حکومت پر اثر رکھتا ہے،  آپ میں سے بہت سے شعرا جنوبی پنجاب میں گرمی بھرے ہال میں مشاعرے پڑھ آئیں ہوں گے یا اوپن ائیر حبس کا شکار ہو کر آئے ہوں گے تو کیا وہاں اے سی ہال بنانے سے ملکی بجٹ میں کمی آجائے گی؟ اگر فی شہر ایک کروڑ کی گرانٹ بھی رکھی جاتی تو بھی اس سہولت پر اتنا خرچ نہ آتا جتنا میٹرو بس پر رعایت کی وجہ سے خسارا آ رہا ہے ۔
میری پچھلی پوسٹ پر جنوبی پنجاب کی سرحد کے تعین پر بھی بحث ہوئی اور اسے جنوبی پنجاب کہنے پر بھی بحث کی گئی جبکہ ان دونوں موضوعات پر بات کرنا سراسر انتظامی لوگوں کا کام ہے ، یہاں ایک اور مسئلہ بھی پھیلا دیا گیا ہے کہ صوبے کا ہیڈ کوارٹر ملتان ہو یا بہاولپور صوبے کا نام ملتان ہو سرائیکی صوبہ ہو یا صوبہ بہاولپوراسی طرح تھل کے نواحی اضلاع کا کوئی اپنا گروپ ہے، صوبے کی اس تحریک کو کئی بار توڑا گیا اور کئی بار یہ خود تھم سی گئی جس کی وجہ جنوبی پنجاب کی ایک خاص نفسیات ہے کہ میں کوئی ٹھیکہ چایا ہے۔
میرے خیال میں تحریر ادبی سے زیادہ سیاسی ہو رہی ہے اور سیاست دا میں کوئی ٹھیکہ چایا ہے۔۔۔۔۔
جنوبی پنجاب یا جو بھی نام دے دیں اس خطے کواگر اس کے معروف لوگوں کا ذکر کیا جائے تو صرف شاعری میں یہاں رجحان ساز لوگ موجود تھے اور موجود ہیں، یہاں کی نظم غمِ دوراں سے ہوتی ہوئی غمِ جاناں میں اشک بہاتی ہے اور غزل لب و رخسار سے ہوتی ہوئی صحرا کی بارشوں کا ذکر کرتی دکھائی دیتی ہے، یہاں کی شاعری میں فطرت کی گونج ہے اور معاشرے کی ناانصافی کا نوحہ ہے
موجود لوگوں میں اردو شاعری کا مان بڑھاتے ہوئے بہت سے اہم نام ہیں اسلم انصاری ،سلیم کوثر، منصور آفاق ، فیصل عجمی، باقی احمد پوری ، فرحت عباس شاہ، ڈاکٹر ابرار احمد، عباس تابش،قمر رضا شہزاد، نوشی گیلانی، رضی الدین رضی، ممتاز اطہر، کبیر اطہر،  افضل گوہر،  منور جمیل، خورشید بیگ میلسوی،  اظہر ادیب،  اعجاز توکل،  علی معین،  کنور امتیاز احمد،  ڈاکٹر اشفاق ناصر،  عامرسہیل،  حسن عباسی،  ذیشان اطہر،  اظہر فراغ،  افضل خان،  ندیم ناجد،  فیصل ہاشمی،  شہاب صفدر،  ذولفقار عادل کے علاوہ بھی کئی نام ہیں جو 2000 کے بعد سامنے آئے

======= فطرت آشنا لوگ =======
تجرباتی شاعری کے دور میں ایک شعر سنائی دیتا ہے اور پھیل جاتا ہے کہ
یہ جو لاہور سے محبت ہے
یہ کسی اور سے محبت ہے
اس کے پیچھے وجہ یہی ہے کہ مذکورہ شعر دھرتی سے جڑا ہے اور اس میں کلچر بھی موجود ہے۔   ہمارے سرائیکی وسیب میں حاجیوں کو بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہےحتٰکہ حج کے مہینے میں پیدا ہونے والے بچوں کا نام بھی کبھی حاجی رکھ دیا جاتا تھااس کے پیچھے نفسیات یہ ہوتی تھی کہ سائیں حاجی صاحب نے ست سمندراں دا پانی پیتا ہے ( تب حج بحری جہاز پر ہوتی تھی ) یہاں ادیب دیوانہ اور حاجی سیانا ہےاور ایسے ہی الحاج لوگوں نے یہاں کے شعور کو سعودی شعور میں ڈھالاکبھی کبھی میں سوچتا تھا کہ یہاں کے لوگ خلیجی ریاستوں میں ڈیرے کیوں لگائے ہوئے ہیں تو بات خلیج جا کر سمجھ آئی کہ لینڈ سکیپ تقریبا ایک جیسا ہے اس کے ساتھ ہی یہاں سے اٹھنے والی شعری آوازوں کی مضبوطی کی وجہ بھی سمجھ میں آئی کہ لینڈ سکیپ کی وجہ سے یہاں کی اردو اور سرائیکی شاعری عرب و فارس کے لہجوں کی حلاوت سے بھرپور ہوتی ہے اور صوتی طور پر دلکش ہوتی ہے،  صوت یعنی آواز شعر سناتے ہوئے بات کرتے ہوئے ایک عجیب سی اداسی میں مبتلا کر دیتی ہے ،  اگر آپ سُر کے اتار چڑھاؤ کو سمجھتے ہیں اور راگ کی کیفیت سے آشنا ہیں تو آپ کو سرائیکی بولی سن کر اندازہ ہوگا کہ اس بولی کی صوت کی کیفیت بے پرواہی ، بے خبری ، اداسی اور حسرت سے بھرپور ہے جو کہ یہاں زیادہ گائے جانے والے راگوں سندھڑا، جوگ اور بھیرویں کی کیفیت ہے صوت کی اسی اداسی اور بے چارگی کی وجہ سے سرائیکی نوحے مشہور ہیں جو کراچی سے لے کر پنڈی تک سنے جاتے ہیں صوت کی یہی اداسی یہاں کے ذاکرین کی شہرت کا باعث ہے۔
لمبےدرختوں پر پھل نہیں لگتےاور اگر لگتے ہیں تو پہنچ سے بہت دور ہوتے ہیں سرائیکی وسیب میں اس لیے کھجور بہت دکھائی دیں گے، صحرا کی وسعتوں میں آوازیں گونجتی نہیں بلکہ پھیل جاتی ہیں اونچی آواز میں چاہے ریشماں گائے یا پٹھانے خان سُریں دور دور تک پھیل جاتی ہیں۔  جنوبی پنجاب میں ملتان کی مٹی حسن کی خیرات بانٹنے میں مشہور ہے اور بہاولپور کی نقاب سے جھانکتی ہوئی آنکھیں سمندر سے گہری دکھائی دیتی ہیں یہی حسن اور یہی گہرائی یہاں کے شعرا کے کلام میں پائی جاتی ہے۔
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہ صحرائی یا مردِ کہستانی
اقبال کے اس شعر کا ادراک مجھ پر میانوالی جا کر ہوا،  میانوالی کا لینڈ سکیپ یوں ہے کہ ایک طرف پہاڑ ہیں اور ایک طرف تھل کا صحرا یہاں کے لوگ زبر کو پیش پڑھتے ہیں یعنی یہ زبر کو بھی پیش پڑ جاتے ہیںمثال کے طور پر حسن کو حسُن ( س پر پیش ) ہوٹل کو ہوٹُل یہ فطری نفسیات یہاں کے شعرا میں بھی ہےیہاں زیادہ تر شعرا کا رجحان گیت کی طرف ہے اس کی وجہ یہاں کی فضا کی موسیقی ہے یہاں موسیقی کا کوئی بڑا گھرانہ نہیں ہے شاید ضرورت بھی نہیں تھی کیونکہ یہاں موسیقی فن کا نام نہیں بلکہ اچھی اور مختلف آواز کا نام ہے راگوں کو ملا کر گانے والے لوگ جب گونجتی اور پھیلتی ہوئی آواز لگاتے ہیں تو پہاڑی اور جوگ جیسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔  میانوالی دشمن دار لوگوں کا علاقہ ہے میانوالی سُر کا علاقہ ہے للکارتے ہوئے کومل کومل مصرعے یہاں کی شاعری کا خاص انگ ہیں سخت مزاج لوگ محبت بھی پوری خود غرضی سے کرتے ہیں اپنا بنا لیں تو کسی کا ہونے نہیں دیتےآپ چاہیں تو میانوالی کے شعرا کو پڑھ لیں یا سن لیں تب آپ پر میرا یہ دھرتی سے جڑی ہوئی شاعری والا مقدمہ سمجھ میں آئے گا ۔
جھنگ کا ذکر آسانی سے تھوڑی ہو جائے گا باوضو ہونا پڑتا ہے اور یہ وضو روایتی نہیں ہوتامیرے خیال میں جس نے جھنگ کو سمجھ لیا اس نے عرش و فرش کے رازوں کو سمجھ لیا ۔  جھنگ گیان سے بھرا ہوا علاقہ ہے یہاں سے راستے منزل کو جاتے ہیں ھو کے وردوں میں سانس لیتی یہاں کی صبحین اور شامیں ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑتی ہیں اور سوئی ہوئی روحوں کو جگاتی ہیں،  جھنگ کے وزن پر شام اور شام کے وزن پر صبح ۔میں نہیں جانتا فرحت عباس شاہ صاحب نے اپنی کتاب شام کے بعد کا نام کیا سوچ کر رکھا پر جھنگ کا مزاج شام کے بعد جیسا ہےدن بھر ساتھ رہنے کے بعد بچھڑنا اور شب بھر ساتھ رہنے کے بعد بچھڑنا جھنگ ہے ۔  ہجر و وصال کے جھنگ کو جھنگ بناتا شور کوٹ میرے سینکڑوںرتجگوں کا ساتھی ہےمیری شاموں کا محرم ہے ، گڑھ مہاراجہ کی زمین کو میں نے پلکوں سے چھوا ہے۔  جھنگ ایک سر سبز علاقہ ہے تمام فصلیں اگاتا مشینوں سے دور کپاس چنتی ہوئی گھاس کاٹتی ہوئی لمبے پراندوں والی نڈر لڑکیاںاور عاشقی کرتے نوجوان سچے عاشقوں کی پوجا سے ہرگز نہیں چوکتےدو بدو بات کرنا اور مخاطب کر کے بولنا یہاں کے لوگوں کی فطرت ہے اور یہی لہجہ یہاں کے شعرا کے اشعار میں ہے ، سوہنی اور ہیر کا چناب یہاں رانجھے کی بھینسوں کو پانی پلا رہا ہے ۔پانی یہاں پر بہت دکھائی دیتا ہے شور کوٹ کی زمین سے شور کا پانی ، چناب کے سیلاب کا پانی برسات کا پانی ، فصلوں میں پانی اور پانی زندگی ہے

======= کلچر سے کھیلتے فاتحین=======
جھنگ دو دریاؤں کے سنگم پر واقع رومان پرور خطہ ہے . دریا ہمیشہ کشادہ دلی پھیلاؤ اور زرخیزی کی علامت ہوا کرتے ہیں ، ملاپ دو لکیروں کا ہو یا دو دریاؤں کا یہ دل اور عقل کے ملاپ جیسا ہوتا ہے۔ دل کی سننے والے عقل کی ماننے والے لوگ جھنگ کی جھنگی میں دن کے راجہ اور رات کی رانیاں ہیں۔ یہاں لائلپور سے ہوتا ہوا پنجابی کلچر ملتان سے آتے ہوئے سرائیکی کلچر میں ملتا ہے، جھنگ خوشاب کے پہاڑوں اور تھل کے صحرا کی ہواؤں کی وجہ سے موسیقی کی وہی فضا رکھتا ہے جو میانوالی کی ہے، جھنگ کی بولی جسے آج کل رچناوی کا نام دیا گیا ہے ملتانی اور بہاولپوری بھی سمجھ سکتے ہیں اور پنجابی بھی، رچناوی بولنے والے لوگ جھنگ، سرگودھا، خوشاب، بھکر، وہاڑی، ساہیوال، پاکپتن، بہاولنگرمیں قدیمی ہیں، جھنگ ملاپ کا علاقہ ہے بولی ، کلچر، دریا اور جھنگ کا لینڈ سکیپ سب میں ملن کی خوشبو ہےاس لیے یہاں کی تہذیب میں میلے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
قادری سلسلہ کی طریقت ننگی تلوار کی طرح ہےجمال و جلال قادری مریدوں کی خاص طاقتیں ہیں شیخ کی اطاعت میں قادری مرید اپنے اپنے رویے کے بادشاہ ہوتے ہیں ، قادری رحمت کی حالت میں ہوں تو اپنے قاتلوں کو بھی معاف کر دیں اور جلال میں ہوں تو اپنی اولاد کوبھی قریب نہ آنے دیں ناچنے لگ جائیں تو ناچنے والوں کو حیرت میں مبتلا کر دیں اور قائم ہو جائیں تو قیامت تک قائم ، ان کی خاموشی ھو میں گندھی ہوتی ہے اور کلام ھو کے اسرار کھولنے میں مگن ہوتا ہے ، عشاقِ حسین کا خطہ جھنگ شریعت کی روشنی میں عشق کا راستہ دکھاتا ہےاور ایمان سے بڑھ کر عشق کو پاتا ہے، برصغیر پاک و ہند میں قادری بزرگوں کے مزارات بہت ہیں لیکن قادری سلسلے کی تعلیم جس انداز سے حضرت سلطان باھو نے فرمائی ہے شاید ہی کسی اور شیخ کے حصے میں آئی ہو اگر ہم جھنگ کے شورکوٹ کو برصغیر پاک و ہند کا بغداد کہیں تو بے جا نہ ہوگا ۔
تقسیم کے بعد جالندھر اور شکار پور سے آئے مہاجرین نے جنوبی پنجاب کے کلچر پر کافی اثر چھوڑا ہے ہریانوی اور پنجابی بولنے والے لوگوں کی اولادیں جب سرائیکی کو اپنے لہجے میں بولتی ہیں تو ایک نئی بولی کا گمان ہوتا ہےجالندھر کے پنجابی بولنے والے مہاجرین نےپنجاب اور جنوبی پنجاب کے لوکل پنجابیوں سے تو رشتہ داری کر لی مگر سرائیکی بولنے والوں کو قبول نہ کر سکے اسی طرح ہریانوی بولنے والے نہ پنجابیوں کو قبول کر سکے اور نہ ہی سرائیکیوں کو، ان کے رشتے آج بھی برادری برادری کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔
ہندوستان کے راج پوت ہندوستان کے لیے جب کچھ نہ کر سکے تو عربوں کے ہموار کیے گئے راستے پر چل کرغزنی ، غوری اور مغلوں نے ہندوستان پر طویل راج کیاغزنی اور غوری آ کر چلے جاتے تھےمگر منگول مغل بن کر یہاں طویل حکمرانی کر گئے اور یہاں کی تہذیب کو اپنا کر انہوں نے اپنے کلچر کو فروغ دیا ، ٹھنڈے اور گرم پانیوں والا ہندوستان دنیا کے لیے ہمیشہ کشش کا باعث رہا اس لیے مغلوں کے بعد برطانوی راج بھی یہاں کی تہذیب سے کھلواڑ کرتا رہا ، یہاں باہر سے آنے والوں کی ہمیشہ پذیرائی کی گئی جس وجہ شاید یہ ہو سکتی ہے کہ یہاں کے عوام ہمیشہ اپنے حکمرانوں سے بدگمان رہے ہیں یا حکمرانوں نے اپنی طرزِ حکومت کی وجہ سے یہاں کے عوام کو ہمیشہ بدگمان اور بے یقین رکھا ہے تبھی صدر دروازے کی طرف دیکھتے ہندوستانی کسی نئے آنے والے کے منتظر رہتے ہیں جیسے اب ہم نے ترقی کی ساری امیدیں منگول چینیوں سے لگا رکھی ہیں ، ہندوستان میں آسمان سے من و سلویٰ تو نہیں اترا البتہ کئی فاتحین ضرور اترے ہیں حتٰکہ یہاں سے باہر جانے والے جب باہر سے واپس یہاں آتے ہیں تو ایک عجیب سے فخر سے لبریز ہوتے ہیں یہاں ولایت کا ایک مطلب غیر ہندوستانی علاقے بھی ہیں خاص طور پر انگریزی علاقے ۔
ہند کے لوگ کلچر کے قاتل لوگ ہیں سانولے رنگوں والے نہ کالوں کی طرح غلامی کو قبول کر سکے اور نہ گوروں کے طرح حکومت کو سمجھ سکے شاید اس لیے بھی ہمارے پاک و ہند کے ادیب شاعر اپنے باھو ، فرید، بلھے ، شاہ حسین، میاں محمد بخش اور وارث کے ساتھ ساتھ اپنی کافیاں، بیت ،گیت، بولیاں، ٹپے ، سمیاں، ماہیے اور ڈھولے وغیرہ چھوڑ کر اشیا کے ساتھ ساتھ سخن بھی درآمدی پسند کرتے ہیں ، گلوبلائزیشن سے پہلے بھی ہمارا ادیب گلوبل تھا۔ ہندوستان میں تعلیمی اسناد کے ساتھ ساتھ پڑھے لکھے لوگوں کا لباس بھی تعلیمی سند ہے انگیریزوں کے غلام جب انگریزی بول کر خود کو حاکم سمجھتے ہیں تو اپنی قوم کی علاقائی زبانوں پر راج کرنے کے دعوے دار بھی بن جاتے ہیں۔ دیگر زبانیں سیکھنا اچھا عمل ہے تاکہ دیگر اقوام کو اپنے خطے سے متعارف کرایا جا سکے مگر آج کل دیگر زبانیں بولنے والے دیگر خطوں کا ہی تعارف کرا رہے اور دیگر تہذیبوں کی ترویج کا باعث بن رہے ہیں، مذہبی لوگ عرب و فارس کی تہذیب کو پسند کرتے ہیں اور روشن خیال کہلانے والے یورپ کی تہذیب لادنا چاہتے ہیں جبکہ اپنی خوشیوں سے بھری تہذیب سے سب بغاوت کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔
تہذیبوں سے کھلواڑ ادب کے راستے کیا جا سکتا ہے اور جو قومیں خود کو زوال پذیر مان لیں ان کے اندر کوئی بھی غیر قوم اعتماد پیدا نہیں کر سکتی ، ہندوستان میں انگریز نے چھوٹے کو بڑے سے لڑایا ، ہوٹل کے بیروں کو دستاریں پہنائیں یہاں کے عوام کو پینٹ کا تحفہ دیا جسے پہن کر وہ خود کو انگریز سمجھتے تھے اور دھوتی قمیض والوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے ، جن لوگوں نے پینٹ نہ پہنی ان کی قمیضوں پر کالر لگا دیے ، کبھی آپ نے غور کیا کہ پاک و ہند کی سرکاری وردی پینٹ شرٹ ہی کیوں ہوتی ہے اس کی صاف وجہ یہی ہے کہ یہاں سائنسی دنیا کے ظہور کے وقت طاقت پینٹ والوں کے پاس تھی اور طاقت ہی سرکار ہے ۔
انگریزی تنقید نے ہمارے شعری معاشرے کو آخرِ کار تباہ کر دیا ہے ، علم کی اس دنیا میں شاعر عالموں میں تو اپنا نام لکھانے میں کامیاب ہوگیا ہے مگر سرہانوں کو غلافوں پر اور رومالوں پر کاڑھے ہوئے شعر اب دکھائی نہیں دیتے

======= ہجرت =======
شاعر فلسفی ہوتا ہے ، مستقبل بین ہوتا ہے ، شاعر باطن کا رمز آشنا ہوتا ہے اسے ہونا نہیں پڑتا ہے با خبر اور عالم ہونا اور بات باخبر اور عالم بن جانا اور بات ۔ شاعری محض فن نہیں ہے کہ اس کی عمارت کو ہم محض کرافٹ پر کھڑا کر دیں اس کا لطیف پہلو ہی دراصل اسے تہذیب سے جوڑتا ہے شاعری کے موسیقار بہت سے ہیں مگر گویا کوئی کوئی ہے ہمارا آج کا شاعر باقاعدہ مشاہدے سے کٹا ہوا ہے نہ اسے سیر میسر ہے اور نہ ہی مکمل تنہائی شاعر کی آوارگی کو ڈگریوں کے حصول کی تگ و دوکھا گئی اور مشاہدے کو سمارٹ فون اس لیے اب ہمارے ہاں شعرا گوگل سے تصویر ڈھونڈ کر اس پر شعر کہتے ہیں ، پرائے دکھ ہمیشہ کچھ لمحوں یا دنوں تک زیرِ اثر رکھتے ہیں ہمارے زیادہ تر شعرا پرائے دکھوں پر شعر کہہ رہے ہیں بلکہ شعر سے شعر برامد کر رہے ہیں، پرائے خیال کو سوچا تو جا سکتا ہے مگر بسر نہیں کیا جا سکتا اس لیے شاید ہم خیال کی اعلیٰ سطح تک رسائی نہیں رکھتے، ادب کی موجودہ صورتحال امیدوں سے بھری ہے اچھا کہنے والے نوجوان اب منفرد کہنے کا سلیقہ اپنا رہے ہیں مگر ان میں پائی جانے والی جلدی اور شہرت کی بے مہار طلب شاید انہیں منزل سے بھٹکا دے ۔
قبلہ والد صاحب مزارات پر اکثر جایا کرتے تھے اور ان کی بابرکت رفاقت مجھے میسر ہوتی تھی ، اولیا اپنی آخری آرام گاہ خود چنتے ہیں یا جہاں مرشد کا حکم ہو اس لیے وہ جگہ بہت خاص ہوتی ہے روحانی حوالوں سے بھی اور سائنسی حوالوں سے بھی ۔  سرائیکی وسیب میں ملتان کی عرفیت مدینہ الاولیا بھی ہے اور بہاولپور میں اوچ شریف ہے اگر ہم ڈیرہ غازی خان جائیں تو وہاں سلطان احمد سخی سرور صاحب کا مزار مبارک ہے اور جھنگ باھو ہے جبکہ بہاولنگر اور اس کے نواح کو بابا فرید نے تھاما ہوا ہے اور وہاڑی حضرت ابوبکر وراق کے زیر سایا ہے اور حاجی دیوان صاحب بھی آرام فرما ہیں، سرائیکی زبان کے بادشاہ خواجہ غلام فرید نے لیہ ، مظفر گڑھ ، رحیم یار خان اور اس کے ساتھ روہی کی مہاریں تھامی ہوئی ہیں اگر آپ ان مذکورہ مزرات پر کچھ دن گزاریں تو آپ کو سرائیکی وسیب کی سمجھ آ جائے گی ، میری خوش قسمتی کہ مجھے کئی کئی دن ان مزرات پر گزارنے کا اتفاق ہوا اس لیے سرائیکی کلچر ، دکھ اور خوشیاں مجھے نہ صرف دیکھنے کا موقع ملا بلکہ میں نے ان کو چکھا بھی ہے ، سرائیکی زمین اپنی کیفیات میں عرب کی زمین سے بھی مشابہت رکھتی ہے وہاں انبیا کے قدموں کی پاکیزگی ہے اور یہاں اولیا کے قدموں کی برکت۔
جنوبی پنجاب کے ہمسایہ سندھ اور بلوچستان کا رقبہ آبادی کے تناسب سے بہت زیادہ ہے اس لیے جاگیرداری اور قبیلہ داری یہاں سے ہوتی ہوئی جنوبی پنجاب میں آئی چونکہ اسلام سندھ کے راجہ داہر کی شکست کے بعد یہاں آ گیا تھا اور اسی راستے دلی اور لکھنو سے ہوتا ہوا پورے ہندوستان میں پھیلا سو دو قومی نظریہ کی ہر طرح سے حمایت بھی اسی خطے سے ہوئی گو دو قومی نظریہ ان مسلمانوں کی ضرورت تھی جو اپنے علاقوں میں اقلیت تھے پر جنوبی پنجاب کے مسلم اکثریتی علاقوں نے اس نظریے کو طاقت فراہم کی اور مہاجرین کو خوش آمدید کہا اور ہنسی خوشی قائدِ اعظم محمد علی جناح کو اپنا لیڈر مانا قائد کے ساتھ ان کے ساتھیوں نے جو کیا وہ تاریخ میں درج ہے اور اکثر کہا جاتا ہے کہ قائد کا پاکستان ایمبولینس میں ہی مار دیا گیا تھا ان حالات کے بعد اندر ہی اندر مہاجرین اور انصار کے درمیان اقتدار کی جنگ شروع ہوگئی مقامی لوگوں کے انگریزوں کی قربت نہ ہونے کی وجہ سے جدید تعلیم نہیں تھی جبکہ مہاجرین میں اکثر جدید تعلیم سے آراستہ تھے سو آئین کی ابتدائی صورتِ حال اور جمہوریت کے خدوخال انہی مہاجرین نے ترتیب دیے جبکہ ریاست بہاولپور کا خزانہ پاکستان کے لیے کھول دیا گیا اور جنوبی پنجاب کے مقامی جاگیرداروں نے نہ صرف مہاجرین کو پناہ دی بلکہ ہنسی خوشی رقبے بھی دیے جنہیں کلیم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔  47 سے 65 تک دنیا کے نقشے پر ایک تیزی سے ترقی کرتا ہوا ملک سب کو دکھائی دینے لگا 65 کی شدید جنگ کے بعد طاقت کی اہمیت سب میں جاگ گئی اور جنوبی پنجاب کے طاقتور جاگیرداروں کو کمزور کرنے کے منصوبے بنائے جانے لگے، جاگیرداری کے حوالے سے سندھ اور بلوچستان زیادہ رقبوں والے جاگیرداروں کا علاقہ ہے مگر زرعی اصلاحات کے نام پر سندھ کا ایک جاگیردار بالخصوص جنوبی پنجاب کے جاگیرداروں کو کمزور کرتا ہے یاد رہے زرعی اصلاحات صرف پنجاب کے جنوبی پنجاب میں ہوئیں سندھ اور بلوچستان میں رقبے تقسیم نہیں ہوئے اور اگر چند ایک ہوئے بھی ہیں تو بھٹو مخالفین کے ہوئے، بھٹو نے جنوبی پنجاب کے جاگیرداروں کو کمزور اس لیے کیا تھاکیونکہ انہوں نے بھٹو کی پیپلزپارٹی جوائن نہ کی اورمسلم لیگ کے ساتھ وفاداری قائم رکھی جس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی پنجاب میں آج تک مضبوط نہ ہو سکی ۔
جنوبی پنجاب کے جاگیردار جنہیں میڈیا اور ادیبوں نے مل کر بدنام کیا ہے جب تک اقتدار میں تھے اخراجات کے بڑھ جانے کی وجہ سے اپنے رقبے بیچتے رہے ، آج بھی بہت سے گھرانے اپنے رقبے سیاست کی نذر کر کے مزدوریاں ڈھونڈتے پھرتے ہیں پھر آہستہ آہستہ اقتدار کاروباری حضرات کے پاس آیا سیاست سرمائے کی نذر ہوئی اور ایوان ممبران کی خرید و فروخت کی منڈی بن گیا سرمایہ کار کے پاس حکومت آئی تو ان کی فیکٹریوں کی تعداد بڑھ گئی اور بات جے آئی ٹی تک پہنچ گئی، جنوبی پنجاب کلچر کا سنگم بھی ہے اور جنگ کا میدان بھی ، دونوں طرف سے چھوٹے چھوٹے لشکر اپنے علاقوں سے نکل کر جنگ کا میدان اسی خطے کو چنتے تھے۔  آج بھی جنوبی پنجاب کے لوگ جب کوئی جھگڑا ہو رہا ہو تو تماشہ دیکھنے میں نہیں چوکتے وہ جھگڑے کا حصہ نہیں بنیں گے مگر گواہ پورے ہونگے یہ نفسیات شاید اس لیے ہے کہ یہاں کے لوگوں نے جنگیں لڑی کم اور دیکھی زیادہ ہیں۔

======= سائیں اور چوہدری =======
میں آج تک سمجھ نہیں سکا کہ باقاعدہ ایک جاگیردار کتنے ملکیتی رقبے کے بعد شروع ہوتا ہے اور کیا ہر جاگیردار انگریز یا مغلوں کی عطا کردہ زمین ہی رکھتا ہے، مجھے جاگیرداروں کے خلاف پھیلی ہوئی نفرت کی وجہ بھی معلوم نہیں ہو سکی، اپر پنجاب کے چوہدریوں پر کسی کو اعتراض نہیں البتہ جنوبی پنجاب کے سائیں کے خلاف نفرت ایک عام تاثر ہے بے شک آپ ہمیشہ جاگیرداروں کے خلاف سوچیں بلکہ ان سے جتنی نفرت کر سکتے ہیں کریں پر جو باتیں میں نے عرض کی ہیں بطور ادیب ان پر بھی غور کریں کیونکہ عدل کا تقاضا ہے کہ ملزم یا مجرم کی بھی سنی جائے،  آپ کو بہت سے چوہدری اور میاں کہلانے والے کھیتی باڑی کے ساتھ ساتھ کاروبار کرتے بھی دکھائی دیں گے پر جنوبی پنجاب کے سائیں صرف دھرتی سے جڑے ہوئے ملیں گے ، جس طرح انگریز نے دستاریں بیروں کو پہنائیں اسی طرح اپر پنجاب میں سائیں لوک بھی دیوانے یا بے وقوف کو کہا جاتا ہے ۔
میری یہ تحریر تاریخی حوالے کے ساتھ ساتھ محسوسات کی بھی ہے ہم اپنے بڑوں سے لڑ کر بڑا کہلا تو سکتے ہیں پر بڑا ہو نہیں سکتے جب اولادیں باپ کی فراست کو للکارتی ہیں تو بستی میں سب سے الگ تھلگ ہو جاتی ہیں اور صحن میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں ۔  اولاد علی گیلانی صاحب نے ایک کتاب لکھی تھی تاریخِ مولتان جس میں انگریز کے عطا کیے گئے رقبوں کی تفصیل موجود ہے باقاعدہ کھیوٹ نمبر کے ساتھ اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کس باغی کو گرفتار کرایا انہوں نے جس کے بدلے لائقِ عطا ہوئے ۔  فاتحین کی مسلسل آمد اور اقتدار کے اتار چڑھاؤ نے اہلِ ہند سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لی اور طاقت کے خلاف ایک عجیب سی نفرت ہمارے دلوں میں بھر گئی یہی وجہ ہے کہ ہم آج تک کسی جمہوری حاکم کو بھی تسلیم نہیں کر سکے ۔
سرائیکیوں کو اس قدر تسلسل سےمحروم کہا گیا ہے کہ اب انہیں خود بھی یقین ہو چکا ہے کہ وہ محروم لوگ ہیں ، ظالم اور مظلوم انسانی رویے ہیں کوئی بھی کسی بھی سطح پر ظالم یا مظلوم ہو سکتا ہے طاقت انسانی جسم کی ضرورت بھی ہے البتہ دولت کی فراوانی رویے کو بدل دیتی ہے 70 کے صنعتی دور سے پہلے بلاشبہ دولت کی فراوانی سرائیکی علاقوں میں تھی مگر کارخانوں کے چالو ہوتے ہی دولت کا جھکاؤ اپر پنجاب کی طرف ہوگیا اور اب جنوبی پنجاب کا مقدر شمالی پنجاب کے پاس ہے جنوبی پنجاب کے سائیں کی شان و شوکت اپر پنجاب کے مل مالک کے آگے صفر ہوگئی ، پنجاب میں زیر پر زبر پڑ گئی اور زبر کو پیش پڑ گئے یہاں پیش سے مراد میانوالی والے ہیں۔
قومیں جب زوال کا شکار ہوتی ہیں تو سب سے پہلے ان کے معزز اور قابل احترام لوگوں کو رسوا کیا جاتا ہے اور طاقت کو زیر کر کے عوام میں کئی طرح کے فکری مبالغے ڈالے جاتے ہیں یہی حال جنوبی پنجاب کا ہے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچتے لوگوں کے درمیان سیڑھی رکھنا گویا جھگڑا پیدا کرنا ہے ، میرِ کارواں سے جھگڑ کر قافلے کے ساتھ چلتے ہوئے لوگ ہمیشہ قافلے کے نظم و ضبط کو توڑ دیتے ہیں ۔  اپنے صاحبِ حیثیت لوگوں کی حیثیت کو ہمیشہ گھر سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا یہی وجہ ہے کہ اس خطے سے کوئی بڑی سیاسی شخصیت پیدا نہ ہو سکی اور اگر کچھ لوگ تھے بھی تو علاقائی بے اعتمادی کا شکار رہے ۔
قصور ، لاہور ، گوجرانوالہ ، سیالکوٹ ، فیصل آباد ، جہلم ، گجرات اور پنڈی وغیرہ صنعتوں سے مالا مال ہیں جبکہ جنوبی پنجاب میں آپ کو اتنے خوشحال علاقے نہیں دکھائی دیں گے، زرخیزی سے مالا مال بہتے ہوئے دریاؤں کو جنوبی پنجاب کا تھل اور روہی ترس رہی ہے ، وہاں کے کاشتکاروں کو یہ لاکھوں ایکڑ رقبہ تقسیم کیا جا سکتا ہے مگر افسوس کہ زمینیں آج تک بنجر ہیں اور روہی میں رقبے کی الاٹمنٹ پاک فوج یا دیگر سرکاری مقربین میں ہو رہی ہے جو نا تو وہاں کے حالات سمجھتے ہیں اور نہ ہی کاشت کاری کا فن جانتے ہیں نتیجتاً چند سو روپے میں ملنے والا رقبہ لاکھوں میں فروخت جو جاتا ہے جسے دھڑا دھڑ صنعت کار خرید رہے ہیں ، چوہدری پرویز الٰہی لوگوں نے رحیم یار خان کے گرد رقبہ خریدا تو میاں صاحبان نے روہی میں اپنی جاگیر بنائی ، اب چوہدری ، میاں ، ملک ، خان سب جاگیردار ہیں اور سائیں کسی قبرستان میں بیٹھا قبر والوں کے ساتھ ماضی بعید کے سنہری دنوں کو یاد کر رہا ہے جب اسی جنوبی پنجاب میں عرب سے لوگ کمانے آتے تھے ۔  کاش میں کوئی فارمولا بنا سکتا کہ کتنی ملکیت کے بعد دو ہاتھوں پیروں والا جاگیردار بنتا ہے تو میں آپ کو اس جاگیردار کی ملکیت کی قیمت لگا کر بتاتا کہ ایک ٹیکسٹائل مل کتنے جاگیرداروں پر حاوی ہے ۔
اکبر الہ آبادی کی شاعری پڑھیں تو سرسید سے بحث کرتے ہوئے ایک شاعر کو پائیں گے جس کے اندر قومی غیرت بھری ہوئی ہے جو تعلیم کو حدود میں قید نہیں کرتا اور ڈگریوں کے خلاف لڑتا دکھائی دیتا ہے علم جو ماں کی گود سے آغاز ہوتا ہے اور قبر تک حصول کی شرط باندھتا ہے اسے ہم نے محدود کر کے زیادہ سے زیادہ پی ایچ ڈی تک کر دیا اور معاشرے کو ڈگریوں کے تفاخر سے بھر دیا ، ڈگری یافتہ کی اکثریت سب سے پہلے اپنے اسلاف کو چیلنج کرتی ہے اگر میری بات کا یقین نہ آئے تو ماضی کو کوستے ہوئے پڑھے لکھوں کا سٹیٹس آپ فیس بک کے سٹیٹس پڑھ کر جان سکتے ہیں جبکہ جن حالات کا ہم شکار ہیں ہمیں کاغذی ڈگریوں سے زیادہ فہم و فراست والے لوگوں کی ضرورت ہے ، پنجاب کی سرحدیں پھیلانے اور علم سے منور کرنے والا رنجیت سنگھ اپنا نام نہیں لکھ سکتا تھا ۔
ممکن ہے تاریخ کے حفاظ لکھوائی ہوئی تاریخ کے مطابق میری ان باتوں سے اعتراض کریں مگر اہلِ احساس و فکر جنوبی پنجاب کے لوگوں کے رویوں کو سامنے رکھ کر غور کریں تو بہت حد تک میری باتوں سے مطمئن ہوں گے

======= بکے ہوئے پرندے اور پانی =======
بطور آدم زاد ہم پوری انسانیت کا بھلا سوچتے ہیں ، وطنی شناخت کے حوالے سے ہر شخص اپنے وطن کا یا ملک کا وفادار ہوتا ہے اور بطور انسان ہم زمین کے وفادار ہیں ، وطن کے قریب ترین لفظ وطیرہ ہے اور ملک کے قریب مالک یا ملکیت ہے ، الفاظ کا صورتی نظام بڑا دلکش ہے ، ایک ہی قبیلے کے لفظ قریب قریب صورت بھی ایک ہی رکھتے ہیں یہ میرا قیاس ہے ہو سکتا ہے غلط بھی ہو مگر اس فارمولا سے مجھے بہت سے لفظوں کے استعمال کا ادراک ہوا ، شاعری نے مجھے لفظوں کا قرب بخشا ، حسن پسندی نے مجھے لفظوں کی صورت سے آشنا کرایا اور موسیقی نے مجھے الفاظ کی صوت کا تعارف دیا ، ہمارے گاؤں کا محل وقوع ایسا ہے کہ جب میں قبلہ رخ ہوتا ہوں تو میرے دائیں طرف ہریالی ہوتی ہے اور بائیں طرف ریت کے ٹیلے، ستلج کی خشک ہیبت میری وحشت کا سامان کرتی ہے ، بکے ہوئے دریا کا قرب دنیا کی ہر شئے کے بازاری ہونے کا یقین دلاتا ہے ۔  کیا انسان نے کبھی سوچا تھا کہ ایک وقت آئے گا وہ پانی بھی خرید کر پئے گاجبکہ ہماری تہذیب تو یوں تھی کہ ہم مسافروں کے لیے راستوں پر نلکے لگایا کرتے تھے اور جنت کمایا کرتے تھے ، پانیوں سے بھرے ہوئے ہند میں پانی کی سبیلوں پر خرچے نہیں ہوتے تھے ۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا بدل چکی ہے ، نہ جانے کتنے انقلاب آئے، پہناوے بدل گئے ، سفر کی آسان سہولیات نے نئے کولمبس پیدا کرنے سے انکار کر دیا اسی طرح محض مطالعے سے برامد ہونے والی شاعری کا دور بھی جا چکا ڈوبنے والے کا آخری زور یہی ہے کہ لسانی تجربے کیے جائیں بات کو نئے ڈھنگ سے کہنا اور نئی بات کہنے میں بہت فرق ہے ، صبح کے نظارے کا کامل لطف تب ہے جب رات کو سو کر اٹھا جائے اور صبح کا نظارا کامل تب ہے جب آپ کی آنکھوں کے سامنے کوئی اونچی بلڈنگ نہ ہو اور نہ ہی دھویں کا جال ہو ، سرائیکی وسیب اونچی بلڈنگز سے پاک ہے کیا خبر یہ اچھا ہے یا برا پر ایک شاعر کے لیے اچھا ہے اس لیے جب لینڈ سکیپ سے اٹھتا ہوا شعر سنائی دیتا ہے تو وہ نیا بھی لگتا ہے اور کئی اشعار کے راستے بھی کھولتا ہے ہم تازہ ڈھونڈتے ہیں نیا نہیں ڈھونڈتے ، شاعری کا فیض محض لطف لینا نہیں بلکہ آپ کے اندر باہر کوئی تبدیلی ہے ، عوام شعر کا فیض حاصل کرنے والی ہوگی تو ان اشعار پر داد دے گی جن میں حکمت ہوگی اور محض انٹرٹینمٹ کی خاطر آئے لوگ ہونگے تو مزاحیہ شاعری پر ہنس ہنس کر داد دیں گے تالیاں بجائیں گے ، شعر سے حظ اٹھانے کا معاملہ صرف شعرا کی حد تک ہے ہاں کوئی کوئی سامع بھی ہو سکتا ہے تو جناب اب زیادہ تر حظ ہی اٹھایا جا رہا ہے اس لیے اتنے شاعر اکٹھے ہوجاؤ کہ ہال بھی بھرا بھرا دکھائی دے اور مشاعرہ بھی ہو جائے یا پھر لوگوں کو اکٹھا کرو اور بنیان پر ختم کرو ، عوامی شاعر ہونا تو بہت بڑی بات ہے ۔
قرآن میں اللہ پاک فکر کی دعوت ہر انسان کو دیتے ہیں اس لیے ہر انسان مفکر ہے تو بطور مفکر ہمیں سوچنا تو چاہئے کہ کوئی کسی نظام سے کیوں باغی ہوتا ہے اور اسی نظام سے بہت سے باغی نہیں ہوتے ، ہمیں اس کی نفسیات کو دیکھنا ہوگا ، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ وہ کہاں سے آیا ہے یا کہاں کی سیر کر کے آیا ہے ، دنیا اب گلوبل ولیج بن چکی ہے لاہور والے لاہور کو یورپ بنایا چاہتے ہیں اور ملتان والے ملتان کو لاہور بنانا چاہتے ہیں اس دوڑ میں کچھ دیہات ہیں جو اجڑتے جا رہے ہیں کچھ باغات ہیں جو کٹتے جا رہے ہیں ہمارے ہاں ترقی اجاڑ دینے کو سمجھا جا رہا ہے اذہان کی پرورش اور شعور کی آبیاری شاید تنزلی ہیں ، اونچے پلازوں کا سعودی شعور پتہ نہیں ہمارے ہاں کیسے آیا پر رج کے آ گیا ہے۔
جنوبی پنجاب کے بکے ہوئے پرندے اب ختم ہوتے جا رہے ہیں یہ دکھ جنوبی پنجاب کے شعرا کے ہاں اکثر دیکھا جا سکتا ہے کہیں کہیں تو بہت بھونڈے انداز میں بھی سننے کو مل جاتا ہے البتہ جب کوئی سرائیکی شاعر پرندوں کا ان کے ناموں کے ساتھ ذکر کرتا ہے تو کمال کر جاتا ہے جو پرندوں کو دیکھ کر یا ان میں رہ کر پرندوں پر شعر کہے گا وہ انہیں ان کی نسل سے یاد کرے گا جیسے چڑیا ، کبوتر ، شاہین وغیرہ کیونکہ پرندوں میں رہنا یا پرندوں کے ساتھ رہنا دونوں صورتوں میں آپ ان کو الگ الگ پہچانتے ہیں ۔
میں آج کل جنوبی پنجاب کے بچوں کا میٹرک کا رزلٹ دیکھ رہا ہوںاور ان کے والدین کا جوش بھی 1100 میں 1091 والے طالب علم نے بورڈ ٹاپ کیا ہے اور اکثریت کا رزلٹ 1000 سے زیادہ ہے لیکن یہ اکثریت کہیں گم ہو جاتی ہے اور میٹرک کے بعد دکھائی نہیں دیتی اس کی بڑی وجہ یہ ہے جنوبی پنجاب میں کوئی نام ور اور بڑا تعلیمی ادارہ نہیں ہے اور اکثریت کے والدین لاہور کے تعلیمی اخراجات برداشت نہیں کر سکتے،  پرندوں پانیوں کے ساتھ ساتھ جنوبی پنجاب کے اذہان بھی ضائع ہو رہے ہیں یا کیے جا رہے ہیں ۔
جنوبی پنجاب کے لوگوں کی نفسیات لاہور آکر بھی نہیں بدلتی اور اگر بدلتی ہے تو لاہوری نفسیات ہو جاتی ہے یہاں لاہوری نفسیات سے مراد حاکمیت والی نفسیات ہے جو اسلام آباد والوں میں زیادہ دیکھی جاتی ہے ، میرا مضمون درجہ بہ درجہ چل رہا ہے نئی محسوسات اور پرانے مسائل دونوں آپس میں گتھم گتھا ہوتے بھی دکھائی دیں گے جیسے میری سابقہ تحریروں پر تبصرے ہو رہے ہیں اور جواب میں لکھا جا رہا ہے اچھی بات ہے پر کہیں کہیں سطحی سوچ رکھنے والے اسے جاگیرداری کا دفاع کہہ رہے ہیں یا کوئی اور نام دے رہے ہیں جنوبی پنجاب کے مسائل کی طرف توجہ یہی جھگڑے ہٹا دیتے ہیں ابھی حال ہی میں میں ملتان کو عطا کی جانے والے میڑو بسوں کا خالی ٹریک دیکھ آیا ہوں سواریاں نہیں ہیں تو بس کیسے چلے گی بسوں پر سوار ہونے والے لوگ لاہور ، اسلام آباد ، کراچی میں چوکیدار ہیں ۔  برادرم شاکر حسین شاکر نے بتایا کہ جنوبی پنجاب کے سیاست دانوں اور کالم نگاروں نے عرض گزاری تھی کہ ملتان کو میٹرو نہیں چاہئے مگر دے دی گئی ، اسی طرح ملتان بار کونسل کے کچھ ممبران کی پوسٹس میں بھی شکوہ دیکھا ہے کہ لاہور بار کونسل والے زیادہ معزز ہیں ، اس قسم کے کئی شکوے آپ کو جنوبی پنجاب میں سننے کو ملیں گے ۔

======= عنوان کچھ نہیں =======
ہم امن کی باتیں کرنے والے ظالم لوگ ہیں ، فلموں سے ویڈیو گیمز تک ہم لڑائی دیکھنا اور کھیلنا چاہتے ہیں چوٹیاں سر کرنا چاہتے ہیں بڑا ہونا چاہتے ہیں ادیب اس معاملے سے الگ نہیں ہے حرص و ہوس کی کوئی نہ کوئی شکل اس میں موجود ہے ہر بڑا ہونے والا کسی کو چھوٹا رکھنا چاہتا ہے کیونکہ وہ مقابلے میں شامل ہو چکا ہے ، آپ سوشل میڈیا پر اپنے عرس لگواتے شعرا کو دیکھ لیں اور اپنی دانش کی تشہیر کرتے معاشرے کو محسوس کر لیں جس کا شاید میں بھی حصہ ہوں ۔  ارے ہاں شاید سے یاد آیا یہ لفظ شاعری میں بھی بہت استعمال ہوتا ہے شاید اردو زبان کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لفظ یہی ہواس میں انتظار بھی موجود ہے اور تجسس بھی اور بہت سہولت سے یہ لفظ کم علمی کا بھرم رکھتا ہے ۔  جنوبی پنجاب کے شعرا کی شاعری میں میاں کا استعمال بھی بہت ہے ، لفظوں کے ساتھ ہماری کوئی نہ کوئی غیر شعوری نسبت ہوتی ہے اس لیے ہمیں ایسے الفاظ کو استعمال کرنے میں کوئی خاص اہتمام کی ضرورت نہیں ہوتی بس موقع کی تلاش ہوتی ہے ۔
ہزاروں سال کی غلامی نے اہلِ ہند کی نفسیات کو بدل دیا ہے ہم گورے رنگ کے بہت شیدائی ہیں بیوی گوری ہو ، بیٹا گورا ہو ہماری خواہش بھی ہے اور دعا بھی اور بیوٹی پارلر کے دور میں تو اس خواہش نے مزید ترقی کی ہے ۔  کبھی کبھی مجھے لگتا ہے ہم بہت ترسی ہوئی قوم ہیں اس لیے ہم بھاگ رہے ہیں اور مسلسل بھاگ رہے ہیں ، جنوبی پنجاب میں آپ کو بہت سے لوگ ایسے ملیں گے جنہوں نے اپنی قوم یا عرفیت کو بدلا ہوا ہے کوئی سید بنا ہوا ہے تو کوئی بھٹی یا بھٹہ یہ بھی خود سے نفرت کرنے کی نفسیاتی بیماری ہے اور اب ان بدلے ہوئے لوگوں کو اصلی سید اور بھٹی یا بھٹے بھی قبول کر چکے ہیں ، میں نے بعض لوگوں کو یوں بھی دیکھا ہے کہ ایک بھائی بھٹی ہے تو دوسرا بھٹہ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ جو جس علاقے میں گیا وہاں کی اشرافیہ میں شمار ہونے کے لیے اس نے وہی لقب اختیار کیا اگر ہم ذہنی پستی کو درمیان سے نکال دیں تو میرے خیال میں اس کی ضرورت نہ پیش آتی ، خطے کی اس نفسیات نے بھی کلچر پر کافی اثر ڈالا ہے ۔
قومیں جب زوال کے سفر پر ہوں تو ان کی نشانی یہی ہے کہ ان کے معززین کے خطاب و القابات مزاح کا حصہ بن جاتے ہیں جیسے استاد، جج، مفکر، مرشد، مولوی یہ سب القابات اپنی توقیر گنوا چکے ہیں اسی فیس بک پر دیکھ لیجے میں اور آپ جانتے ہیں کہ فیس بک کی آمد سے پہلے شاعری کے استاد ہوتے تھے اب مرشد ہوتے ہیں دکھ کی بات یہ ہے کہ لفظوں کی توقیر کو بحال رکھنے والا طبقہ اب لفظوں کی تذلیل میں مصروف ہے ۔
یہ کسی کی حمایت یا مخالفت نہیں بس ایک مثال ہے کہ سیاست دان عوام کی طاقت ہیں اور عوام کی ہی نمائندگی کرتے ہیں جب عوام اپنی طاقت اور اپنے نمائندے کو گالیاں دیتے ہیں تو ان سے بھلے کی امید کیسے رکھی جا سکتی ہے وہ نبی یا ولی نہیں ہیں ، سرائیکی عوام بھی اپنے سیاست دانوں پر خوب برسنے والی عوام ہے اس لیے نہ سیاست دان مضبوط ہیں اور نہ ہی یہاں کے علاقے ترقی یافتہ ہیں ، اگر یونانی یا منگول آپس میں ہی جھگڑتے رہتے تو دنیا کو فتح نہ کر سکتے آپس کے یہ جھگڑے بھی سیاسی علاقوں کی کمزوری ہیں اور شاطر لوگ ہمارے علاقے کی اس روش کو جانتے ہیں ۔
حال ہی میں فیس بک پر بہاولپور کے شعرا کا آپسی جھگڑا مشہور ہوا بہت جلد آپ فیس بک پر اس طرف سے آنے والی شاعری کے موضوعات کو خود پڑھیں گے ، ان معاملات کو دیکھ کر کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اگر جنوبی پنجاب کو جنوبی پنجاب والوں کے حوالے کر دیا جائے تو بہت جلد یہ ایک دوسرے کی ذلت کا سامان کر لیں گے کسی کو کسی قسم کی محنت کی ضرورت نہیں ہے ۔  سوشل میڈیا اور خاص طور پر فیس بک کے سٹیٹس پڑھنے سے ہمیں بہت کچھ سمجھنے کو ملتا ہے کیونکہ جہاں سٹیٹس لکھا جاتا ہے وہاں ایک کیپشن دیا ہوتا ہے کہ آپ کے دماغ میں کیا چل رہا ہے یا آپ کے دماغ پر کیا سوار ہے ۔
پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگویجز اینڈ کلچر اس نام کو پڑھیں میرے خیال میں اسے یوں ہونا چاہئے تھا ( انسٹیٹیوٹ آف لینگویجز اینڈ کلچر پنجاب) یہ پنجاب کی زبانوں اور کلچر کی خدمت کے لیے بنایا گیا ایک ادارہ ہے جس کے اب تک کے سب ڈائریکٹر پنجابی ہی ہیں گو صغریٰ صدف صاحبہ نے سرائیکی ادیبوں کو ادارے کے تحت ہونے والے پروگرامز میں شامل کیا ہے لیکن آٹے میں نمک کے برابر تاہم یہ بھی ان کا احسان ہے کہ ہمارے چھوڑے ہوئے حق کا انہوں نے احساس جگایا ہےورنہ سرائیکیوں کو خبر بھی نہیں ہونی تھی کہ اس ادارے پر ان کا بھی حق ہے ، سچ مانیں تو ہم سرائیکی اپنی زبان سے خود غدار ہیں کسی سے کیا گلہ کرنایہاں ایک بات یاد رکھنا لازمی ہے کہ اب جنوبی پنجاب کی لوکل زبان صرف سرائیکی نہیں بلکہ رچناوی عرف جانگلی ، ہریانوی، پنجابی  اور اردو بھی جنوبی پنجاب کی لوکل زبانیں ہیں ، میں جنوبی پنجاب کو زبان کے سطح پر صوبہ بنانے کے حق میں نہیں ہوں میرا مسئلہ انتظامی صورتحال ہے 12 یا 14 کروڑ عوام کا حق ہے کہ اس کے انتظامی معاملات بھی زیادہ سے زیادہ مرکزی ادارے سنبھالیں ۔
شاعر یا ادیب معاشرے کا شعور ہوتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جنوبی پنجاب میں شعور کی کمی ہے اسی طرح یہ بات بھی سچی ہے کہ یہاں کے شعرا اور ادیب بھی اس وقت ملکی سطح کے بڑے نام ہیں بس دکھ یہ ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں شعور کو اجاگر نہ کر سکے ایک بارگاہ میں وہ ضرور جواب دہ ہونگے جب ان سے سوال کیا جائے گا کہ جن کا پہلا حق تھا ان سے منہ کیوں موڑا ، میں سلام پیش کرتا ہوں دنیا بھر کے ان شعرا اور ادیبوں کو جو اپنے علاقوں میں شعور کی آبیاری کر رہے ہیں ۔
ندیم بھابھہ